173

حدیبیہ ریفرنس: اسحاق ڈار کا اعترافی بیان نکال دیں تو اس کیس میں نیا کیا ہے؟ سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کی سماعت کے دوران ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ریمارکس دیے کہ ہمارے ساتھ کھیل نہ کھیلیں، جرم بتائیں، صرف بیانات پر بھروسہ نہیں کرسکتے، سپریم کورٹ میں بادی النظر کا لفظ استعمال نہ کریں سیدھا موقف اپنائیں۔

جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس مظہر عالم خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے شریف خاندان کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کھولنے کی نیب کی درخواست پر سماعت کی۔

سماعت کے آغاز میں جب نیب کے پراسیکیوٹر نے دلائل دینا شروع کیے تو جسٹس مظاہر عالم نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے میں حدیبیہ ریفرنس کا ذکر کہاں ملتا ہے؟

اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ کچھ افراد کے نام سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہیں، ان کا تعلق حدیبیہ ریفرنس سے ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ یہ سب نام تو آپ کے پاس 2000 میں بھی تھے۔ معزز جج نے استفسار کیا کہ کیا اکاؤنٹ میں پیسے رکھنا جرم ہے؟ پراسیکیوشن کا کام ہے بتائے کہ جرم کیا بنتا ہے؟ نیب کی بنائی گئی کہانی بار بار تبدیل ہوجاتی ہے،  ہمیں کسی کی ذاتی زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں، جو کچھ آپ بتارہے ہیں یہ سب ریکارڈ 2000 میں میسر تھا۔

معزز جج نے اپنے ریمارکس میں برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسحاق ڈار کو نکال دیا جائے تو آپ کے پاس نیا کیا ثبوت ہے؟ 1992 سے 2017 تک آگئے، ابھی بھی ہم اندھیرے میں ہیں، دراصل ہوا کیا، معلوم نہیں، اس کا بیان اُس کا بیان، یہ سب کیا ہے؟ چارج کس نوعیت کا ہے سمجھ نہیں آرہا، ہمارے صبر کا امتحان نہ لیں۔

ڈپٹی پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ ہمارے قوانین کے مطابق ملزم کی ذمے داری ہے وہ بے گناہی ثابت کرے۔

جسٹس مشیر عالم نے استفسار کیا کہ اسحاق ڈار کے اعترافی بیانات میں موجود حقائق کی تحقیق کی گئی؟ جس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اپنایا کہ جے آئی ٹی نے اس سے متعلق دستاویزات دی ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ جو نئے ثبوت آپ بتارہے ہیں یہ سب کچھ 2000میں بھی موجود تھے، پھر آپ نئے اہم ثبوت کیا لائے؟ جس کی بنیاد پرریفرنس کھولا جائے؟ منی ٹریل کے جے آئی ٹی سے پہلے اور بعد کے شواہد پر دلائل دیں، 4 اکاؤنٹس تھے یا 36 ایشو مشترک ہے۔

جسٹس مشیر عالم نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں، تاخیر سے ریفرنس دائر کرنا عبور کرلیا تو ممکن ہے کہ بات میرٹ پر آجائے، قانون سب کے لیے ایک ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈپٹی پراسیکیوٹر نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں پختہ ثبوت دکھائیں، صرف بیانات پر بھروسہ نہیں کرسکتے، بینک ملازمین کے بیانات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔

جسٹس مشیر عالم نے کہا کہ آپ کو منی ٹریل کی شناخت کرنا ہوگی اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ حدیبیہ پیپر ملز کے بینفیشریز کون ہیں۔

عدالت نے طویل سماعت کے بعد مزید سماعت کے لئے کارروائی کل تک کے لئے ملتوی کردی۔

گزشتہ روز عدالت نے نیب کی جانب سے کیس کو التوا میں ڈالنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے حکم دیا تھا کہ ٹی وی ٹاک شوز میں حدیبیہ پیپر کیس پر بات چیت کی اجازت نہیں ہوگی۔

عدالت نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ حدیبیہ پیپرز ملز ریفرنس کیس کی صرف رپورٹنگ کی اجازت ہوگی تبصروں کی نہیں جب کہ عدالت نے پیمرا کو بھی حکم دیا تھا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں