پولیس اگر اپنی لیڈی کانسٹیبل کو انصاف نہیں دے سکتی تو پھر یہ عام آدمی کو کیا تحفظ دے گی؟ پنجاب میں دو مہینوں میں پولیس تشدد کے کتنے واقعات پیش آئے؟ ان میں کتنے لوگ مارے گئے؟ صلاح الدین کی ہلاکت نے پولیس کے نظام کو ننگا کرکے رکھ دیا، جاوید چودھری کا تجزیہ

انگریز کے زمانے میں ڈی ایس پی ضلع کا سب سے بڑا افسر ہوتا تھا اور ایک اے ایس آئی پوری تحصیل کو سنبھالتا تھا‘ پولیس کا ایک ہر کارہ پورے گاؤں کو گرفتار کر کے تھانے لے آتا تھا اور کوئی شخص چوں نہیں کرتا تھا‘ کیوں؟ کیوں کہ انگریز یونیفارم کو سٹیٹ سمجھتا تھا‘ کوئی شخص اس یونیفارم کی طرف انگلی بھی اٹھا دیتا تھا تو وائسرائے فوج بھجوا دیتا تھا  اور فوج انگلی اُٹھانے والے کے سارے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹا دیتی تھی
لیکن آج سینئر ترین پولیس آفیسرز اور تھانوں اور حوالات کے بریگیڈز کے باوجود

ملک میں پولیس کی کوئی عزت نہیں‘  پولیس اہلکاروں کو تھپڑ بھی پڑ جاتے ہیں اور ڈنڈے بھی‘دوسری طرف پولیس عام لوگوں کو ننگا کرکے الٹا بھی لٹکا دیتی ہے‘ یہ معذوروں کو استری کے ذریعے جلا کر بھی مار دیتی ہے اور غریبوں کی ہڈیاں توڑ کر لاشیں ہسپتال بھی پھینک دیتی ہے‘ یہ ثابت کرتا ہے آپ اگر مضبوط ہیں تو آپ پولیس کی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور آپ اگر کمزور ہیں تو پھر پولیس آپ کی کوئی پرواہ نہیں کرتی‘ پولیس کا تشدد اور پولیس پر تشدد اس وقت ملک کا سب سے بڑا ایشو بن چکا ہے، پنجاب میں دو مہینوں میں پولیس تشدد کے 950 واقعات پیش آئے‘جن میں سات لوگ مارے گئے‘ ذہنی معذور صلاح الدین کی پولیس کی حراست میں ہلاکت نے پولیس کے نظام کو ننگا کرکے رکھ دیا‘ پھر لیڈی کانسٹیبل فائزہ نواز کے واقعے نے ایک اور سوال اٹھا دیا کہ پولیس اگر اپنی لیڈی کانسٹیبل کو انصاف نہیں دے سکتی تو پھر یہ عام آدمی کو کیا تحفظ دے گی‘ آئی جی پنجاب عارف نواز نے ان دونوں سوالوں سے بچنے کے لیے آج تھانوں میں پولیس اہلکاروں‘ میڈیا اور عام شہریوں کے موبائل فونز کے استعمال پر پابندی لگا دی‘ کیا یہ فیصلہ پولیس کلچر تبدیل کر دے گا‘ کیا یہ پولیس ریفارمز ہیں‘ پولیس شہریوں کے تحفظ کے لیے بنائی گئی تھی لیکن یہ خوف کی علامت بن گئی‘ پولیس کا امیج کیسے بہتر بنے گا اور کانسٹیبل فائزہ نواز کے واقعے نے ثابت کر دیا ملک میں خواتین محفوظ نہیں ہیں خواہ وہ سرکاری ملازم ہی کیوں نہ ہوں؟



سب سے زیادہ پڑھی جانے والی مقبول خبریں


دلچسپ و عجیب
No News Sorry.
کالم
آپ کی رائے
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2019 All Rights Reserved