Tag Archives: راجہ

مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا، رمیز راجہ

کراچی(این این آئی) سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ ایک انٹرویو میں رمیز راجہ نے کہاکہ مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ٹوئنٹی 20 کھلاڑیوں کی سمت درست کرنے کیلگے ہارڈ ہٹر کوچ کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ پرانے
کھلاڑیوں کو واپس لایا گیا جو دباؤ میں پرفارم نہیں کرپائے، بابر اعظم سے اوپننگ کرانا درست نہیں تھا۔سرفراز احمد اچھی فارم میں نہیں، ان

کی جگہ حارث سہیل کو چوتھے نمبر پر بھیجنا چاہیے تھا، رمیز نے کہا کہ مختصر ترین فارمیٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے، ہم نے دوسرے ٹی 20 میں صرف 2 چھکے جڑے جبکہ حریف سائیڈ کی اننگز میں 8 سکسرز شامل تھے۔



[ad_2]

سری لنکن سیریز قومی کرکٹرز کا اعتماد بحال کرے گی : رمیز راجہ

لاہور(آن لائن )سابق قومی کپتان اور دور حاضر کے صف اول کے کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ سری لنکاکے خلاف سیریز قومی کھلاڑیوں کے اعتماد کی بحالی کیلئے انتہائی ضروری تھی جو اپنے ملک میں حریف کا سامنا کر کے خود میں بہتری لائیں گے۔رمیز راجہ کے مطابق یہی وقت ہے کہ قومی ٹیم دفاعی سوچ سے
باہر نکل کر نڈر انداز سے بے خوف کرکٹ کھیلے اور پاکستانی بیٹسمین مختصر فارمیٹ کے میچوں میں مختلف شاٹس اور ورائٹی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اہلیت میں اضافہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت تک بہترین نہیں

بن سکتی جب تک اس کے کھلاڑی مختلف سوچ کے ساتھ جارحانہ کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی پاکستان آنے والی ٹیم اوسط درجے کی ہے لہذا قومی کرکٹرز کو اس کا دبا لینے کی ضرورت نہیں حالانکہ قومی سکواڈ میں انڈر 23 اور انڈر 19میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی بھی شامل کرنا چاہئے تھے۔خیال رہے کہ پاکستان کی سکیورٹی پر آئی سی سی کا اعتماد بھی بڑھنے لگا ہے، آئی سی سی نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کے لیے آسٹریلیا کے ڈیوڈ بون کو میچ ریفری مقرر کردیا۔آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل مائیکل گف، جول ولسن اور علیم ڈار امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے۔رپورٹ کے مطابق آئی سی سی انٹرنیشنل پینل میں شامل احسن رضا، شوزیب رضا اور آصف یعقوب بھی سیریز میں ذمہ داریاں نبھائیں گے۔



[ad_2]

 کارکے رینٹل پاور ریفرنس،سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے شریک ملزم انور بروہی کی نیب سے پلی بارگین،کتنی رقم واپس کردی؟ حیرت انگیزانکشافات

اسلام آباد (آن لائن) کارکے رینٹل پاور ریفرنس میں نیب سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے شریک ملزم انور بروہی نے نیب سے پلی بارگین کر لی۔ 85لاکھ روپے 55 ہزار روپے واپس کر دیے۔ چیئرمین نیب نے پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی۔احتساب عدالت کو بھی آگاہ کر دیا گیا۔ کارکے رینٹل پاور ریفرنس میں نامزد ملزم سابق سی ای او لاکھڑا پاور جنریشن کمپنی انور بروہی نے نیب کے ساتھ 85 لاکھ 55 ہزار روپے میں پلی بارگین کر لی۔ نیب حکام کی جانب سے احتساب عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ چیئرمین نیب
نے ملزم کی پلی

بارگین کی درخواست منظور کر لی ہے۔ جس کے بعد ملزم سے پلی بارگین کی رقم وصول کر لی گئی ہے۔ نیب کے مطابق کارکے کمپنی نے 2009میں لاکھڑا پاور جنریشن کے ساتھ پاکستان میں معاہدہ کیا تھا  مگر  بے ضابطگیاں سامنے آنے پر معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہو سکا۔ معاہدہ پورا نہ ہونے پر ترکی کی کمپنی نے بین الاقوامی ٹریبونل سے رابطہ کیا اور پاکستان کو بھاری جرمانہ عائد ہوا۔ پاکستان نے بین الاقوامی ٹریبونل کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کر رکھی ہے۔



[ad_2]

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے جس تھالی میں کھایا،اسی میں چھید کردیا،پاکستان کے بارے میں افسوسناک بیانات، رمیز راجہ برہم

کراچی (این این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کمنٹیٹررمیز راجہ نے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے بیان پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ گرانٹ فلاور نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا، برطرفی کے بعد گرانٹ فلاور کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ
پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں تھی، خود انہیں گھومتے پھرتے دیکھا۔سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو بیان میں رمیز راجہ نے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برطرفی کے بعد گرانٹ فلاور کو یہ

نہیں کہنا چاہئے تھا کہ پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ وہ6 سال تک قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ رہے،اس کے باوجود انہوں نے جس تھالی میں کھایا،اسی میں چھید کیا۔انہوں نے کہا کہ گرانٹ فلاور نے پاکستان میں 3مرتبہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا، مختلف مقامات پر بل بورڈز میں قومی ٹیم کے ساتھ ان کی تصاویر لگی تھیں۔رمیز راجہ نے کہا کہ گرانٹ فلاور پاکستان میں اتنے ہی محفوظ تھے جتنا زمبابوے، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ میں ہوتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ گرانٹ فلاو ر کو اپنی آنکھوں سے لبرٹی مارکیٹ اور ریسٹورنٹس میں دیکھا جبکہ وہ بلا خوف و خطر سڑکوں پر جاگنگ کرتے بھی نظر آئے لہٰذا ملازمت چھوڑنے کے بعد انہیں اس طرح کے بیانات دینا نہیں چاہئے تھے۔



[ad_2]

مصباح الحق کو قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے سے قبل ہی تنقید کا سامنا ، رمیز راجہ نے حیرت انگیز مطالبہ کر دیا ‎

لاہور( این این آئی )پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیض راجہ نے مصباح الحق کو قومی ٹیم کاہیڈ کوچ بنانے کی مخالفت کردی۔مائیک ہیسن کی جانب سے انکار کے بعد مصباح پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 45 سالہ سابق کپتان کو ہیڈ کوچ کے عہدے کے ساتھ ساتھ چیف سیلیکٹر بھی بنادیا جائے گا۔ایک ویڈیو میں رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ مصباح کی دفاعی حکمت عملی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ مصباح کچھ خود کرنے کے بجائے

مخالف ٹیم کی غلطی کا انتظار کرتے ہیں۔
سابق کپتان نے زور دیا کہ پاکستان کو بے خوف اور جدید طرز کی کرکٹ کھیلنی ہوگی تب ہی گرین شرٹس کامیاب ہوسکتے ہیں۔ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی ٹیسٹ ٹیم کو اپنی جارحانہ حکمت عملی سے نئی سطح پر لے گئے ہیں اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جارحانہ کرکٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈی این اے میں ہے، صرف اس حوالے سے درست منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اچھی ٹیم کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے قومی ٹیم کو ہر طرح کی کنڈیشنز میں فتوحات حاصل کرنا ہوں گی۔



[ad_2]

چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ، راجہ ظفر الحق کی زیر صدارت اپوزیشن سینیٹرز کا اجلاس،  اجلاس میں کتنے سینیٹرز شریک تھے؟ حیرت انگیز انکشاف

اسلام آباد (این این آئی) اپوزیشن جماعتوں نے سینٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے یکم اگست کو ہونے والے اجلاس بارے حکمت عملی مرتب کرلی۔ منگل کوسینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا اجلاس
پارلیمنٹ ہاؤس کمیٹی روم نمبر ایک میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت ہوا جس میں پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن،) اے این پی، پی کے ایم اے پی، این پی، جے یو آئی سمیت اپوزیشن جماعتوں کے اراکین شریک ہوئے، چیئرمین سینٹ کیلئے اپوزیشن کے مشترکہ

امیدوار حاصل بزنجو بھی اجلاس میں موجود تھے،اراکین نے سینٹ کے ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس پر تبادلہ خیال کیا جبکہ یکم اگست کو چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے بلائے گئے ریگولر اجلاس بارے حکمت عملی طے کی گئی۔ اجلاس میں اپوزیشن نے سینیٹ میں حکومت ٹف ٹائم دینے کافیصلہ کیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے راجہ ظفر الحق نے کہاکہ اجلاس میں 63 سینیٹرز شریک تھے۔ صحافی نے سوال کیا کہ ہمیں معلوم ہے کونسے سینیٹرز بکیں گے آپ کو پتہ نہیں؟۔ راجہ ظفر الحق نے کہاکہ میں نے کبھی سودا بازی نہیں کی۔ صحافی نے سوال کیا کہ چیئرمین سینیٹ اجلاس کی صدارت کرینگے کیا کہیں گے؟ یہ ہم آپ کو ایوان میں جواب دینگے۔  اپوزیشن جماعتوں نے سینٹ میں حکومت کو ٹف ٹائم دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیئر مین سینٹ کو ہٹانے کی تحریک پر ووٹنگ کیلئے یکم اگست کو ہونے والے اجلاس بارے حکمت عملی مرتب کرلی۔ منگل کوسینٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس کمیٹی روم نمبر ایک میں سینٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ظفرالحق کی زیر صدارت ہوا



[ad_2]

پاکستان ٹیم کی ساخت میں مکمل طور پر تبدیلی کا وقت آگیا،اگر باقی تمام میچز جیت بھی جائیں تو کیا ہوگا؟ رمیز راجہ نے بڑا دعویٰ کردیا

لندن( آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی پرفارمنس کے بعد کہا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کے ساخت میں مکمل طور پر تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ قومی ٹیم کی پرفارمنس پر تنقید کرتے ہوئے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ‘جیسا کہ پاکستان کے لیے ورلڈکپ اب تقریبا ختم ہوچکا ہے کیونکہ اس کا رن ریٹ صرف افغانستان سے بہتر جبکہ دیگر تمام ٹیموں کے مقابلے میں کم ہے۔’انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے تمام میچز جیت بھی جائے
تب بھی اس کا سیمی فائنل میں پہنچنا تقریبا ناممکن

ہے۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ہر شکست کے بعد جائزہ لیا جاتا ہے، تاہم ہر شکست کے بعد تبدیلی ضروری ہے اسی لیے میرا خیال ہے کہ اب پاکستان کرکٹ کی ازسرنو تعمیر کا وقت آگیا۔ورلڈکپ 1992 جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے رکن کا کہنا تھا کہ بھارت سے شکست کے بعد آپ کا ورلڈکپ تقریبا ختم ہوچکا ہے، اگر مزید کسی میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو آپ کے شائقین ناراض ہوجائیں گے۔انہوں نے اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے نظام، کپتانی اور مہارت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا، جب آپ اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے تو مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے۔رمیز راجہ نے پاکستان کی ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ آپ اسکواڈ میں دو 38 سالہ کھلاڑیوں کے ساتھ ورلڈکپ نہیں جیت سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کی مہارت گزشتہ 2 برسوں کے دوران مزید خراب ہوگئی۔سابق کپتان نے کہا کہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کا ‘ناقابل پیش گو’ کا ٹیگ ہٹ جائے گا، لیکن اب تو یہ ٹیگ بہت واضح ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف فتح غیرمعمولی تھی، حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کو ورلڈکپ کے ہر میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ایک ٹیم کو ورلڈکپ کی تیاری کرنے اور مسابقتی ٹیم بننے کے لیے 5 سال لگتے ہیں، لیکن پاکستانی ٹیم اتنے عرصے میں اپنی مہارت ہی بہتر کرنے میں ناکام رہی۔



[ad_2]

بجٹ اجلاس، بلاول بھٹو نے اپنی پارٹی رہنماؤں کو چکرا کے رکھ دیا،فرحت اللہ بابر‘ راجہ پرویز اشرف دیگر رہنما دیکھتے رہ گئے،دلچسپ صورتحال

اسلام آباد (آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھتو نے اس وقت اپنی پارٹی رہنماؤں کو چکرا دیا جب پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد اسمبلی ہال میں داخل ہونے کیلئے دوسرا راستہ اختیار کرلیا جبکہ فرحت اللہ بابر‘ راجہ پرویز اشرف اور دوسرے پارٹی رہنماء پیچھے رہ جانے کے بعد ان کی نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ جس سے کچھ دیر کیلئے پریشان بھی ہوئی تاہم بلاول بھٹو اسملی کا چکر کاٹ کر ہال میں پہنچ گئے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب
بجٹ تقریر کے دوران کچھ دیر احتجاج میں شریک ہوکر اپنے موبائل سے

مختصر سی ویڈیو بنائی اور ا کے بعد اجلاس چھوڑ کر چلی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیر مملکت حماد اظہر جب بجٹ تقریر شروع کی تو اپوزیشن نے احتجاج شروع کردیا اور حکومت اور عمران خان کیخلاف شدید نعرے بازی کی اس دوران مسلم لیگ (ن) کی رہنما و ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی تھوڑی دیر احتجاج میں حصہ لیا پھر موبائل سے ویڈیو بنانا شروع کردی جس کے کچھ ہی دیر بعد وہ اجلاس چھوڑ کر چلی گئی۔



[ad_2]

اسلام آباد،جاسوسی کے الزام میں سزا پانے والے لیفیٹنٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اور بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور ڈاکٹر وسیم اکرم کے بیرون ملک ہونے کی خبریں،یہ لوگ اب کہاں ہیں؟تفصیلات جاری

اسلام آباد(آن لائن) جاسوسی کے الزام میں سزا پانے والے 2 فوجی افسران لیفیٹنٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اور بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور ایک سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کو جیل منتقل کر دیا گیاہے یہ افسران مقدمے کی سماعت کے دوران زیر حراست رہے لہذا سوشل میڈیا پر ان کے بیرون ملک ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق جاسوسی کے الزام میں سزا پانے والے 2 فوجی افسران لیفیٹنٹ جنرل (ر) جاوید اقبال اور بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور ایک سول افسر ڈاکٹر وسیم اکرم کو
جیل منتقل کر دیا گیاہے،یہ افسران مقدمے کی سماعت

کے دوران زیر حراست رہے لہذا سوشل میڈیا پر ان کے بیرون ملک ہونے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ملٹری کورٹ نے لیفیٹنٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14 سال قید با مشقت کی سزا سنائی تھی   جبکہ  بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان اور ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت دی گئی ہے جس کی توثیق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کر دی ہے،  سزا یافتہ افسران پر  جاسوسی اور قومی سلامتی کے راز افشا کرنے کے الزامات تھے۔



[ad_2]

بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان کے ”را“ کے ساتھ تعلقات کب اور کیسے قائم ہوئے، پاک فوج نے خفیہ تعلقات کا پتہ کیسے چلایا؟ سزائے موت پانے والے فوجی افسر سے متعلق معلومات منظر عام پر آ گئیں

راولپنڈی(نیوز ڈیسک) پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز دو فوجی افسران اور ایک سول افسر کو جاسوسی اور غیر ملکی ایجنسیوں کو حساس معلومات فراہم کر نے کے الزام میں دی گئی سزا کی توثیق کی ہے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق افسران کا پاکستان آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت علیحدہ علیحدہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کیا گیا۔جن افسران کو سزائیں دی گئی ہیں ان میں بریگیڈئیر (ر)راجہ رضوان کو سزائے موت، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال کو چودہ سال قید با مشقت اور ایک حساس ادار ے کے سول ملازم ڈاکٹر وسیم

اکرم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔
اس حوالے سے ایک موقر قومی روزنامے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غداری کی سزا پانے والے بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان کے حوالے معلومات سامنے آئی ہیں کہ وہ فوج میں کئی اہم عہدوں پر رہے ہیں اور 2014ء میں وہ آرمی سے ریٹائر ہونے کے بعد اسلام آباد میں رہ رہے تھے، ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ سکیورٹی ان کی ریٹائرمنٹ سے قبل ہی ان پر نظر رکھے ہوئے تھے اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان پر نظر رکھی گئی، بریگیڈئر (ر) راجہ رضوان 2009ء سے 2012ء کے دوران ملٹری اتاشی کے طور پر اہم یورپی ممالک میں رہے اور اسی موقع پر ان کا رابطہ بھارتی خفیہ ایجنسی را سے ہوا، ذرائع کا کہنا ہے کہ راجہ رضوان نے جرمنی اور آسٹریا میں تعیناتی کے دوران بھارت کو بھاری رقوم کے عوض ملکی راز فروخت کیے، ذرائع کا کہناہے کہ اس بارے میں فوجی تحقیقاتی ادارے کو اس بات کا علم ہو گیا تھا اسی وجہ سے راجہ رضوان کی نگرانی مزید سخت کر دی گئی۔ فوجی ذرائع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خوش قسمتی سے راجہ رضوان نے دشمن کو جو راز بیچے اس سے پاکستان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا لیکن انہیں غلطی کی سزا مل گئی ہے۔10 اکتوبر 2018ء کو راجہ رضوان جب اپنے ڈرائیور کے ساتھ دوست کو ملنے جا رہے تھے تو جی ٹین مارکیٹ اسلام آباد سے انہیں تحویل میں لے لیا گیا تھا۔ جب کئی روز تک وہ گھر واپس نہ آئے تو ان کے بیٹے علی رضوان نے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی اور درخواست میں موقف اختیار کیا کہ سادہ کپڑوں میں ملبوس تین افراد دس اکتوبر کی رات میرے والد کو اغواء کرکے لے گئے ہیں اور تب سے میرے والد کا موبائل بھی بند جا رہا ہے،
ہائی کورٹ میں اس کی سماعت ہوئی اور پندرہ نومبر 2018ء کو عدالت میں وزارت دفاع کے نمائندے نے بتایا کہ راجہ رضوان کے خلاف آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے اور ایک فوجی ہونے کی وجہ سے آرمی ایکٹ کے تحت کورٹ مارشل کا مقدمہ کیا جائے گا، اس طرح گزشتہ روز آرمی چیف قمر جاوید باجو ہ نے راجہ رضوان کی سزائے موت کی توثیق کر دی ہے۔واضح رہے کہ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ یکساں احتساب کی پالیسی پرآئندہ بھی سختی سے عمل ہوگا، گزشتہ2 سالوں میں مختلف رینک کے 400 افسران کو سزائیں دی گئیں، متعدد افسران کو نوکریوں سے فارغ ہونا پڑا،
لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل اور میجرجنرل (ر) خالد زاہد اختر کو این ایل سی کے4.3 ارب اسٹاک مارکیٹ میں لگانے سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا، اسد درانی کو”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے پرکورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2 آرمی اور ایک سویلین افسر کی سزا کی توثیق کردی، تینوں افسران کو جاسوسی کے الزام میں سزائیں دی گئیں۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ان افسران میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) جاوید اقبال کو 14سال کی قیدسزاسنائی گئی جبکہ بریگیڈیئر (ر) راجہ رضوان کو سزائے موت کی سز اسنائی گئی۔اسی طرح ایک سویلین افسر جس میں ڈاکٹر وسیم اکرم کو سزائے موت کی سزا سنائی گئی۔ آرمی چیف نے تینوں افسران کی سزاؤں کی توثیق کردی ہے۔
فوج کے دونوں افسران غیرملکی خفیہ ایجنسیوں کو معلومات دے رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ آرمی چیف نے 2 آرمی اور ایک سویلین افسرکو راز افشاں کرنے پر سزائیں سنائیں۔ فوجی افسران کا کورٹ مارشل مکمل ہونے کے بعد سزائے سنائی گئیں۔ان تمام افسران پرقومی سکیورٹی کے راز افشاں کرنے پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلائے گئے تھے۔ واضح رہے گزشتہ 2 سال میں مختلف رینک کے 400 افسران کو سزائیں دی گئیں۔ جس میں این ایل سی اسکینڈل میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمد افضل کو دی گئی،این ایل سی اسکینڈل میں میجرجنرل (ر) خالد زاہد اختر کو بھی سزائیں ہوئیں۔ دونوں افسران پراین ایل سی کے4.3ارب اسٹاک مارکیٹ میں لگانے کا الزام ہے۔متعدد افسران کو نوکریوں سے فارغ ہونا پڑا۔ اسی طرح جنرل اسد درانی کا احتساب بھی اسی پالیسی کے تحت عمل میں آیا۔ آئندہ بھی احتساب کی پالیسی پر یکساں عملدرآمد ہوگا۔ جنرل (ر) اسد درانی کیخلاف ”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے کا الزام ہے۔ جنرل (ر)اسد درانی کو ”را“ کے سابق سربراہ اے ایس دلت کے ساتھ ملکر کتاب لکھنے پرکورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑا۔

موضوعات:

loading…



[ad_2]