Tag Archives: رمیز

مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا، رمیز راجہ

کراچی(این این آئی) سابق پاکستانی کپتان رمیز راجہ نے کہا ہے کہ مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا ہے۔ ایک انٹرویو میں رمیز راجہ نے کہاکہ مصباح الحق کو تمام فارمیٹس میں کوچنگ کی ذمہ داری دے کر بوجھ لاد دیا گیا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ٹوئنٹی 20 کھلاڑیوں کی سمت درست کرنے کیلگے ہارڈ ہٹر کوچ کی ضرورت ہے، انھوں نے کہا کہ پرانے
کھلاڑیوں کو واپس لایا گیا جو دباؤ میں پرفارم نہیں کرپائے، بابر اعظم سے اوپننگ کرانا درست نہیں تھا۔سرفراز احمد اچھی فارم میں نہیں، ان

کی جگہ حارث سہیل کو چوتھے نمبر پر بھیجنا چاہیے تھا، رمیز نے کہا کہ مختصر ترین فارمیٹ میں نوجوان کھلاڑیوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے، ہم نے دوسرے ٹی 20 میں صرف 2 چھکے جڑے جبکہ حریف سائیڈ کی اننگز میں 8 سکسرز شامل تھے۔



[ad_2]

سری لنکن سیریز قومی کرکٹرز کا اعتماد بحال کرے گی : رمیز راجہ

لاہور(آن لائن )سابق قومی کپتان اور دور حاضر کے صف اول کے کمنٹیٹر رمیز راجہ نے کہا ہے کہ سری لنکاکے خلاف سیریز قومی کھلاڑیوں کے اعتماد کی بحالی کیلئے انتہائی ضروری تھی جو اپنے ملک میں حریف کا سامنا کر کے خود میں بہتری لائیں گے۔رمیز راجہ کے مطابق یہی وقت ہے کہ قومی ٹیم دفاعی سوچ سے
باہر نکل کر نڈر انداز سے بے خوف کرکٹ کھیلے اور پاکستانی بیٹسمین مختصر فارمیٹ کے میچوں میں مختلف شاٹس اور ورائٹی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی اہلیت میں اضافہ کریں۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ٹیم اس وقت تک بہترین نہیں

بن سکتی جب تک اس کے کھلاڑی مختلف سوچ کے ساتھ جارحانہ کرکٹ نہیں کھیلیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا کی پاکستان آنے والی ٹیم اوسط درجے کی ہے لہذا قومی کرکٹرز کو اس کا دبا لینے کی ضرورت نہیں حالانکہ قومی سکواڈ میں انڈر 23 اور انڈر 19میں بہترین کارکردگی دکھانے والے کھلاڑی بھی شامل کرنا چاہئے تھے۔خیال رہے کہ پاکستان کی سکیورٹی پر آئی سی سی کا اعتماد بھی بڑھنے لگا ہے، آئی سی سی نے پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سیریز کے لیے آسٹریلیا کے ڈیوڈ بون کو میچ ریفری مقرر کردیا۔آئی سی سی ایلیٹ پینل میں شامل مائیکل گف، جول ولسن اور علیم ڈار امپائرنگ کے فرائض انجام دیں گے۔رپورٹ کے مطابق آئی سی سی انٹرنیشنل پینل میں شامل احسن رضا، شوزیب رضا اور آصف یعقوب بھی سیریز میں ذمہ داریاں نبھائیں گے۔



[ad_2]

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے جس تھالی میں کھایا،اسی میں چھید کردیا،پاکستان کے بارے میں افسوسناک بیانات، رمیز راجہ برہم

کراچی (این این آئی) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور کمنٹیٹررمیز راجہ نے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کے بیان پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ گرانٹ فلاور نے جس تھالی میں کھایا اسی میں چھید کیا، برطرفی کے بعد گرانٹ فلاور کو یہ نہیں کہنا چاہئے تھا کہ
پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں تھی، خود انہیں گھومتے پھرتے دیکھا۔سوشل میڈیا ویب سائٹ پر اپنے ویڈیو بیان میں رمیز راجہ نے سابق بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برطرفی کے بعد گرانٹ فلاور کو یہ

نہیں کہنا چاہئے تھا کہ پاکستان میں سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے انہیں گھومنے پھرنے کی آزادی نہیں تھی۔ انہوں نے کہاکہ وہ6 سال تک قومی ٹیم کے بیٹنگ کوچ رہے،اس کے باوجود انہوں نے جس تھالی میں کھایا،اسی میں چھید کیا۔انہوں نے کہا کہ گرانٹ فلاور نے پاکستان میں 3مرتبہ ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا، مختلف مقامات پر بل بورڈز میں قومی ٹیم کے ساتھ ان کی تصاویر لگی تھیں۔رمیز راجہ نے کہا کہ گرانٹ فلاور پاکستان میں اتنے ہی محفوظ تھے جتنا زمبابوے، انگلینڈ یا نیوزی لینڈ میں ہوتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ گرانٹ فلاو ر کو اپنی آنکھوں سے لبرٹی مارکیٹ اور ریسٹورنٹس میں دیکھا جبکہ وہ بلا خوف و خطر سڑکوں پر جاگنگ کرتے بھی نظر آئے لہٰذا ملازمت چھوڑنے کے بعد انہیں اس طرح کے بیانات دینا نہیں چاہئے تھے۔



[ad_2]

مصباح الحق کو قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے سے قبل ہی تنقید کا سامنا ، رمیز راجہ نے حیرت انگیز مطالبہ کر دیا ‎

لاہور( این این آئی )پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور معروف کمنٹیٹر رمیض راجہ نے مصباح الحق کو قومی ٹیم کاہیڈ کوچ بنانے کی مخالفت کردی۔مائیک ہیسن کی جانب سے انکار کے بعد مصباح پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے مضبوط ترین امیدوار بن گئے ہیں۔امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ 45 سالہ سابق کپتان کو ہیڈ کوچ کے عہدے کے ساتھ ساتھ چیف سیلیکٹر بھی بنادیا جائے گا۔ایک ویڈیو میں رمیض راجہ کا کہنا تھا کہ مصباح کی دفاعی حکمت عملی پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ مصباح کچھ خود کرنے کے بجائے

مخالف ٹیم کی غلطی کا انتظار کرتے ہیں۔
سابق کپتان نے زور دیا کہ پاکستان کو بے خوف اور جدید طرز کی کرکٹ کھیلنی ہوگی تب ہی گرین شرٹس کامیاب ہوسکتے ہیں۔ویرات کوہلی کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھارتی ٹیسٹ ٹیم کو اپنی جارحانہ حکمت عملی سے نئی سطح پر لے گئے ہیں اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ جارحانہ کرکٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں کے ڈی این اے میں ہے، صرف اس حوالے سے درست منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک اچھی ٹیم کے طور پر تسلیم کیے جانے کے لیے قومی ٹیم کو ہر طرح کی کنڈیشنز میں فتوحات حاصل کرنا ہوں گی۔



[ad_2]

پاکستان ٹیم کی ساخت میں مکمل طور پر تبدیلی کا وقت آگیا،اگر باقی تمام میچز جیت بھی جائیں تو کیا ہوگا؟ رمیز راجہ نے بڑا دعویٰ کردیا

لندن( آن لائن)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان رمیز راجہ نے بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی پرفارمنس کے بعد کہا ہے کہ پاکستان کی کرکٹ کے ساخت میں مکمل طور پر تبدیلی کا وقت آگیا ہے۔ قومی ٹیم کی پرفارمنس پر تنقید کرتے ہوئے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ‘جیسا کہ پاکستان کے لیے ورلڈکپ اب تقریبا ختم ہوچکا ہے کیونکہ اس کا رن ریٹ صرف افغانستان سے بہتر جبکہ دیگر تمام ٹیموں کے مقابلے میں کم ہے۔’انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے تمام میچز جیت بھی جائے
تب بھی اس کا سیمی فائنل میں پہنچنا تقریبا ناممکن

ہے۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ہر شکست کے بعد جائزہ لیا جاتا ہے، تاہم ہر شکست کے بعد تبدیلی ضروری ہے اسی لیے میرا خیال ہے کہ اب پاکستان کرکٹ کی ازسرنو تعمیر کا وقت آگیا۔ورلڈکپ 1992 جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے رکن کا کہنا تھا کہ بھارت سے شکست کے بعد آپ کا ورلڈکپ تقریبا ختم ہوچکا ہے، اگر مزید کسی میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تو آپ کے شائقین ناراض ہوجائیں گے۔انہوں نے اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ آپ کے نظام، کپتانی اور مہارت پر سوالیہ نشان لگ جائے گا، جب آپ اپنی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے تو مایوسی مزید بڑھ جاتی ہے۔رمیز راجہ نے پاکستان کی ٹیم میں نوجوان کھلاڑیوں کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، کیونکہ میرا ماننا ہے کہ آپ اسکواڈ میں دو 38 سالہ کھلاڑیوں کے ساتھ ورلڈکپ نہیں جیت سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی کرکٹرز کی مہارت گزشتہ 2 برسوں کے دوران مزید خراب ہوگئی۔سابق کپتان نے کہا کہ یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پاکستان کا ‘ناقابل پیش گو’ کا ٹیگ ہٹ جائے گا، لیکن اب تو یہ ٹیگ بہت واضح ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ میں انگلینڈ کے خلاف فتح غیرمعمولی تھی، حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان کو ورلڈکپ کے ہر میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ ایک ٹیم کو ورلڈکپ کی تیاری کرنے اور مسابقتی ٹیم بننے کے لیے 5 سال لگتے ہیں، لیکن پاکستانی ٹیم اتنے عرصے میں اپنی مہارت ہی بہتر کرنے میں ناکام رہی۔



[ad_2]