Tag Archives: ازادی

بات آزادی مارچ سے آگے چلی گئی مولانا فضل الرحمن اکتوبر میں اسلام آباد میں کیا کرنیوالے ہیں؟15لاکھ افراد کےکتنے دن قیام و طعام کا بندوبست بھی کرلیا؟حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری

اسلام آباد ( مانیٹرمگ ڈیسک) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نےاکتوبر2019ء کے اواخر میں ’’ اسلام آباد آزادی مارچ‘‘ کے 15لاکھ شرکاء کے 30روزہ قیام و طعام کا بندوبست کر لیا ۔روزنامہ نوائے وقت کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کو دھرنے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب اپوزیشن کی بعض پارٹیوں نے ان سے آزادی مارچ کے
اگلے روز کے پروگرام کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فی الحال ان کے پاس ریڈ زون میں ایک ماہ کے قیام و طعام کا انتظام

موجود ہے اگر ہمیں دھرنا کو طوالت دینا پڑی تو اس کا بھی انتظام کر لیا جائے گا ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے اکتوبر کے وسط میں 10ہزار رضاکاروں کو طلب کر لیا ہے۔



آزادی مارچ سے قبل مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری ، مارچ کی قیادت کون کرینگے؟ متوقع نام سامنے آگئے

اسلام آباد (این این آئی)جمعیت علماء اسلام (ف)کی جانب سے اکتوبر میں اسلام آباد میں آزادی مارچ سے قبل مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد مارچ کی قیادت کیلئے ناموں پر غور شروع کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری کے بعد قیادت کیلئے پارٹی کے اہم رہنمائوں کے نام سامنے آگئے،مولانا فضل الرحمن کی
گرفتاری کے بعد کمانڈ کیلئے مولانا عبدالغفور حیدری کا نام سر فہرست ہے ، اکرم خان درانی، مولانا عطاء الرحمن، علامہ راشد خالد سومرو ، مولانا اسعد محمود کا نام زیر غور ہے ۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل

الرحمن کی گرفتاری یا نظر بند ہونے کی صورت میں فرسٹ، سیکنڈ، تھرڈ نام مارچ کو کمانڈ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ گرفتاری ہو یا نظر بندی ،کسی بھی صورت میں آزادی مارچ ملتوی نہیں ہوگا۔



کشمیر کی آزادی ، فیصلے کا وقت آگیا ، تہلکہ خیز پیش گوئی کر دی گئی

ملتان(آن لائن) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان اس وقت تک امن قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ مسئلہ کشمیر حل نہ ہو۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کشمیر پر اگر ہم نے کوتاہی برتی تو دنیا کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ملتان میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اج کے دن کو پاک فوج کے شہدا اور کشمیریوں کی
جدوجہد کے ساتھ منانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں

اوروطن عزیز کے لیے ۔جانیں دینے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ ہندوستان گزشتہ 72 سالوں سے کشمیریوں کے ساتھ بربریت کررہا ہے لیکن اب فیصلے کا وقت آگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی سازش ہے کہ وہاں پیسہ لگائے اور کشمیریوں کو ویزوں کا لالچ دے لیکن کشمیری سوائے آزادی کے کچھ نہیں چاہتے ہیں۔انہوں نے بھارتی اقدامات کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان نے کشمیر کے معاملے کو چھیڑ کر بہت بڑی غلطی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسئلہ کشمیر پر حکومت اور اپوزیشن کو ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔وفاقی وزیر نے صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں قومیں تباہ ہوتی ہیں لیکن پھر کھڑی ہوجاتی ہیں مگر اس کے لیے شرط یہی ہے کہ ان میں جذبہ زندہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ انشا اللہ وقت آنے پر پاکستان کے جھنڈے تلے اپنی جان دینے میں فخر محسوس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک کی خاطر جان دینے والے شہدا پر فخر کرتے ہیں۔انہوں نے اعلان کیا کہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے ایک ٹرین کراچی سے کشمیریوں کو لے کر چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کو سندھ ایکسپریس کا تحفہ دیا ہے اور ٹرین کے مسافروں میں 80 لاکھ کا اضافہ کیا ہے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ 22/24 کروڑ مسلمانوں کو ہندوستان میں دوسرے درجے کا شہری بنادیا گیا ہے



بھارت مقبوضہ کشمیرمیں آزادی بحال،گرفتارافرادرہا کرے ،امریکا نے مودی پر دبائو بڑھاتے ہوئے بڑا مطالبہ کردیا

واشنگٹن (این این آئی)امریکا نے بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مقبوضہ جموں اور کشمیر میں بنیادی آزادی کو بحال اور گرفتار افراد کو فوری رہا کرے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے سینئر عہدیدار نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمیں اس علاقے کے رہائشیوں پر مستقل پابندیوں اور حراست میں لیے جانے کی رپورٹس پر مسلسل تشویش ہے۔اس علاقے کے دورے کے بعد واپس آنے والے
عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘ہم انفرادی حقوق کے احترام، قانونی طریقہ کار کی تعمیل اور

ایک جامع مذاکرات پر زور دیتے ہیں۔بھارت کا ذکر کرتے ہوئے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے عہدیدار نے کہا کہ ہم قانونی کارروائی اور جامع بات چیت کے لیے ہر فرد کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم بھارت کے خدشات سے آگاہ ہیں لیکن اس بات پر زور دیتے رہیں گے کہ جتنی جلد ممکن ہو خطے میں صورتحال معمول پر لانے کے لیے کام کیا جائے۔



مقبوضہ کشمیر میں11ویں روز بھی لاک ڈاؤن، کشمیری بدستور گھروں میں محصور ،بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ بن گیا

سرینگر(اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن کا11واں روز ، بھارتی فورسزنے کئی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔ کشمیری بدستور گھروں میں محصور ہیں، بچے بھوک سے بلبلانے لگے، ادویات کی بھی قلت ہے۔بھارت کے جبر کے سامنے کشمیری ڈٹ گئے ہیں، کرفیو لاک ڈائون سمیت ہر طرح کی پابندیوں کے باوجود کشمیریوں کی بھارتی اقدامات کو پوری طرح مسترد کر دیا ہے۔
بھارت نے سیکیورٹی مزید بڑھا دی ہے۔سری نگر سمیت کشتواڑ، پلواما اور پونچھ میں ہزاروں قابض فوجی گشت کر رہے ہیں، مقبوضہ وادی میں انٹرنیٹ مسلسل بند ہے، کشمیری اخبارات اب

تک اپڈیٹ نہیں ہو سکے، اخبارات پر صرف تاریخ بدل رہی ہے، خبریں پرانی ہی ہیں، بیرونی دنیا کا وادی سے رابطہ منقطع ہے، حریت رہنما مسلسل نظر بند ہیں۔وادی میں کرفیو کے باوجود لوگوں نے بھارت کا یوم آزاد یوم سیاہ کے طور پر منایا اور محاصرے توڑ کر سیاہ پرچموں کے ساتھ احتجاجی مظاہرے کئے گئے ۔اس دوران فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ کئی کو گرفتار کرنے کی بھی اطلاعات ہیں ۔وادی میں مقامی اخبارات اور جرائد کی اشاعت پر بھی بدستور پابندی عائد ہے ۔میڈیا کی سرگرمیاں مکمل پر ختم ہو گئی ہیں ۔ ادھر بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان نے کرفیو کے نفاذ کے بعد پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد مقبوضہ وادی میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان تصادم ہوا تھا۔مقامی افراد نے اس احتجاج کے حوالے سے کہا تھا کہ 8 ہزار سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا تھا جن کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس اور پیلٹ گنز فائر کیے تھے۔
مقبوضہ کشمیر میں احتجاج کے حوالے سے بھارتی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مقامی مسجد میں نماز کی ادائیگی کے بعد واپسی پر شرپسند شہریوں میں مل گئے اور انہوں نے بلااشتعال قانون نافذ کرنے والی فورسز پر پتھراو کیا جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی پھیل گئی۔ان کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مزاحمت کی اور امن و عامہ کو بحال رکھنے کی کوشش کی اور آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد جموں کشمیر میں کوئی فائر نہیں کی گئی۔خیال رہے کہ بھارتی حکومت نے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کا اعلان کیا تھا اور مقبوضہ وادی میں ٹیلی فون، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کو معطل کرکے کرفیو نافذ کردیا تھا۔



عمران خان یوم آزادی کے موقع پر جب مظفر آباد پہنچے تو ایسا کیا ہوا کہ وزیراعظم پاکستان ہاتھ ملتے رہ گئے

مظفر آباد (آن لائن) پاکستان پیپلزپارٹی آزاد کشمیر کے رہنماؤں نے وزیر اعظم عمران خان سے مظفر آباد میں ملاقات سے انکار کر دیا۔ ایک بیان میں لطیف اکبر نے کہاکہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کشمیر آئے اور پیچھے سے راتوں رات عمران خان نے فریال تالپور کو گرفتار کرادیا۔ انہوں نے کہاکہ کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے والے بلاول بھٹو کی پیٹھ پر وار ناقابل برداشت ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی
.کشمیر کی قیادت بطور احتجاج عمران خان سے ملاقات نہیں کرے گی۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کشمیر کے مسئلے کے حساس ہونے کے بعد کیوں ملکی اتحاد میں دراڑیں

ڈال رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عمران خان وضاحت کریں کہ کیوں وزیرخارجہ نے آزادی پسندوں کو احمقوں کی جنت میں رہنے والا قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان اگر کشمیریوں کے زخموں پر مرہم نہیں رکھ سکتے تو نمک پاشی بھی نہ کریں۔



بھارت کے یوم آزادی پر پاکستان بھر میں یوم سیاہ، سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں

اسلام آباد( آن لائن ) بھارت کے یوم آزادی پر پاکستان بھر میں یوم سیاہ منایا جارہا ہے،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں ہیں جبکہ شاہرادستور پر سیاہ جھنڈے لہرادیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق پاکستان بھر میں بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر یوم سیاہ منایا گیا ۔
یوم سیاہ پر کشمیری عوام سے اظہاریکجہتی کے لئے اسلام آباد میں سرکاری عمارتوں پرقومی پرچم سرنگوں کردیئے گئے۔ایوان صدر، وزیراعظم آفس، سپریم کورٹ کی عمارتوں پرقومی پرچم سرنگوں ہیں پارلیمنٹ ہاس پربھی قومی پرچم سرنگوں ہے جبکہ شاہرادستور پر سیاہ جھنڈے لہرا دیے گئے

ہیں، صوبائی حکومتوں نے بھی یوم سیاہ منایا ۔آزاد کشمیر سمیت ملک بھر کے شہروں، دیہاتوں اور گلی محلوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور ہر طرف کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں کی گونج ہے۔یوم سیاہ کے موقع پر وزیراعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان، فواد چوہدری سمیت دیگر رہنمائوں نے احتجاجا اپنے ٹوئٹر اکانٹس کے ڈسپلے سیاہ کر دیئے ہیں۔دوسری جانب دنیا بھر میں پاکستانی آج کشمیر پر بھارتی قبضے کیخلاف آوازاٹھائیں گے اور کشمیرکی آزادی سلب کرنے والے بھارت کو پیغام دیا جائے گا۔وزیراعظم کے معاون خصوصی ذلفی بخاری اور وزیر ریلوے شیخ رشید کشمیر لندن میں ریلی میں شرکت کے لیے پہنچ گئے ہیں۔یاد رہے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور مقبوضہ وادی میں بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ 15 اگست کو بھارت کا یوم آزادی یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔



کشمیر پر خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ۔۔۔!!! ریاست ناگا لینڈ نے اپنا الگ وفاقی دارالحکومت بنا لیا، قومی ترانہ بھی جاری ، جانتے ہیں یوم آزادی کس تاریخ کو منانے کا اعلان کردیا؟مودی پر سکتہ طاری

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کشمیر پر قبضہ کرنے والا اور پاکستان کو توڑنے کے خواب دیکھنے والا بھارت خود ٹکڑے ٹکڑے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان سے علیحدگی اختیار کرنے والی ریاست ناگا لینڈ نے اپنا الگ وفاقی دارالحکومت بنا لیا اور قومی ترانہ بھی جاری کر دیا۔ شورش زدہ بھارتی ریاست ناگا لینڈ کی حکومت نے اپنی وفاقی حکومت بنانے، بھارت سے الگ ہونے اور 14 اگست 2020 کو یوم آزادی
منانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔جس میں ناگا لینڈ نے خود کو بھارت سے الگ کرنے کا اعلان کیا، اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ناگا لینڈ اب ایک آزاد ملک

ہے، جس پر بھارت نے زبردستی قبضہ کر رکھا تھا۔ناگا لینڈ 14 اگست 2020 کو بھرپور انداز میں اپنا یوم آزادی منائے گا۔ ناگا لینڈ کی حکومت اور عوام کو موقف ہے کہ ناگالینڈ کبھی بھی بھارت کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا تھا۔ بھارت نے 1947 میں زبردستی ناگا لینڈ پر قبضہ کر لیا تھا۔

موضوعات:

loading…



اسلام آباد میں بھارتی یوم آزادی کی تقریبات منعقد ہونگی یا نہیں ؟اہم فیصلے کر لئے گئے، جانتے ہیں جاتے جاتے ہائی کمشنر نے سفارتخانے میںکیا کام کیا؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ وطن واپسی کیلئے پروگرام میں تبدیلی کے بعد گزشتہ شب اسلام آباد ایئرپورٹ سے غیر ملکی پرواز کے ذریعےدبئی روانہ ہوگئے، اس سے پہلے انہوں نےاسلام آباد سے بذریعہ موٹروے لاہور روانہ ہونا تھا جہاں سے براستہ واہگہ نئی دہلی جانا تھا، روانگی سے قبل بھارتی ہائی کمشنر نےہائی کمیشن میں ایک غیر رسمی تقریب میں عملے سے خطاب کیا،اس موقع پر ہائی کمیشن کے
عملے نےان سے وابستگی کے جذبات کااظہار کرتے ہوئے انہیں الوداع کیا،دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ بھارت کی یوم آزادی کے حوالہ سے ہائی کمیشن کی جانب

سے اسلام آباد میں تقریبات کومنسوخ کردیاگیا ہے،ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن 15اگست کواپنے یوم آزادی کی تقریب محدود سطح پر ہائی کمیشن میں ہی کریگا۔یا درہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدامات کے بعد پاکستان نے بھارت سے تمام تعلقات منقطع کر دئیے تھے ۔