Tag Archives: اسلام

ویڈیوسکینڈ ل میں ملوث احتساب عدالت اسلام آباد کے سابق جج ارشد ملک کو اہم ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، نوٹیفیکیشن جاری

لاہور(این این آئی)احتساب عدالت اسلام آباد کے سابق جج ارشد ملک کو سیشن کورٹ لاہور میں آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی تعینات کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے چیف جسٹس ہائی کورٹ کی منظوری کی بعد نوٹیفکیشن جاری کیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق ارشد ملک کو سیشن کورٹ لاہور میں 21 ویں گریڈ پر او ایس ڈی پر تعینات کیا گیا جس کا اطلاق 22 اگست 2019 سے ہوگا۔واضح رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز
پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ

خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں۔ویڈیو سامنے آنے کے بعد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے خود پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا تھا اور ایک پریس ریلیز جاری کی تھی۔ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔



اسلام آباد کی جگہ کراچی کو دوبارہ وفاقی دارالحکومت بنانے کی تجویز،پیپلزپارٹی نے بڑا سرپرائز دے دیا

کراچی (این این آئی) اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ کراچی قیام پاکستان کے وقت بھی دارالحکومت تھا اسے واپس دارالحکومت میں تبدیل ہونا چاہیے۔ ہفتہ کو کراچی کی احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ کراچی کے کچرے پر صرف اور صرف
سیاست ہوئی ہے، کراچی قیام پاکستان کے وقت بھی دارالحکومت تھا اسے واپس دارالحکومت میں تبدیل ہونا چاہیے۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 149 کے مطابق وفاق صوبے کو صرف اور صرف مشورہ دے سکتا ہے، یہ غلط اخذ کیا گیا ہے

کہ وفاق صوبے کو کنٹرول کرے گا۔



بات آزادی مارچ سے آگے چلی گئی مولانا فضل الرحمن اکتوبر میں اسلام آباد میں کیا کرنیوالے ہیں؟15لاکھ افراد کےکتنے دن قیام و طعام کا بندوبست بھی کرلیا؟حکومتی ایوانوں میں لرزہ طاری

اسلام آباد ( مانیٹرمگ ڈیسک) جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نےاکتوبر2019ء کے اواخر میں ’’ اسلام آباد آزادی مارچ‘‘ کے 15لاکھ شرکاء کے 30روزہ قیام و طعام کا بندوبست کر لیا ۔روزنامہ نوائے وقت کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کو دھرنے میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب اپوزیشن کی بعض پارٹیوں نے ان سے آزادی مارچ کے
اگلے روز کے پروگرام کے بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ فی الحال ان کے پاس ریڈ زون میں ایک ماہ کے قیام و طعام کا انتظام

موجود ہے اگر ہمیں دھرنا کو طوالت دینا پڑی تو اس کا بھی انتظام کر لیا جائے گا ۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے اکتوبر کے وسط میں 10ہزار رضاکاروں کو طلب کر لیا ہے۔



ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں میں اضافہ،صورتحال تشویشناک،وفاقی دارالحکومت اسلام آبادمیں دفعہ 144نافذ،خطرناک انتباہ جاری

اسلام آباد (این این آئی)ملک بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے پیش نظر ضلعی مجسٹریٹ اسلام آباد نے ضلع بھر میں دفع 144 نافذ کر دی ہے۔ ضلعی مجسٹریٹ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیاکہ وفاقی دارالحکومت میں قائم ٹائر شاپس مالکان پر ٹائرز ڈسپلے کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،شہری پودوں کو پانی دینے میں احتیاط سے کام لیں اور صاف پانی کو ڈھانپ کر رکھیں۔
ضلعی انتظامیہ نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت میں کھلے عام گاڑیوں کو دھونے اور پانی گلیوں اور شاہراوں پر

بہانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائیگی۔ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے مطابق شہریوں کی طرف سے گلیوں اور شاہراہوں پر بہایا جانے والا پانی مختلف مقامات پر جوہڑوں اور تالابوں کی شکل اختیار کر جاتا ہے۔جوہڑوں اور تالابوں میں کھڑے پانی سے ڈینگی مچھر پرورش پاتا ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکہ جان لیوا بیماری سے بچ سکتے ہیں۔ضلعی انتظامیہ شہر کو ڈینگی سے محفوظ بنانے کیلئے تمام اقدامات اٹھا رہی ہے۔ضلعی مجسٹریٹ نے کہاکہ شہریوں کے تعاون سے وفاقی دارلحکومت کو ڈینگی سے محفوظ بنانے کیلئے کاوشیں جاری رکھیں گے۔ڈینگی وائرس کا محرک بننے والوں کے خلاف سیکشن 144 کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ادھر وزیر صحت خیبر پختونخوا ہشام انعام اللہ خان نے کہاہے کہ صوبے میں ڈینگی متاثرہ افراد کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ڈینگی کے ساڑھے اٹھارسو میں سے 903 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 675 کیسز کا تعلق پشاور سے ہے۔وزیر صحت ہشام انعام اللہ خان نے کہا کہ ڈینگی سے بچاؤ کے لئے بڑے پیمانے پر اقدامات کر رہے ہیں،خیبر پختونخوا کے انیس محکمے ڈینگی کے خاتمے میں تعاون کرینگے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ڈینگی کے معاملے میں عوام میں پولیو کے معاملہ کی طرح خوف وہراس پھیلایا جارہا ہے،لوگوں میں خوف نہ پھیلے اس وجہ سے اسپتالوں کو ڈیٹا شیئر کرنے سے روکا ہے،ڈینگی کا تمام تر ڈیٹا میڈیا کو ڈی جی ہیلتھ فراہم کرنے کے مجاز ہیں۔



وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی نا اہلی، اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم قدم اٹھا لیا

اسلام آباد(آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے خلاف نااہلی کیس سماعت کے لیے مقرر کردیا ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ کیس کی سماعت کریں گے۔رجسٹرار آفس اسلام آباد ہائیکورٹ نے آج کے لیے مقدمات کی فہرست جاری کردی۔درخواست میں وفاقی وزیر پر اثاثے چھپانے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ انہوں نے الیکشن کمیشن میں درست معلومات نہیں دیں۔درخواست میں مؤقف
اختیار کیا گیا ہے کہ فواد چوہدری کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا جائے۔درخواست میں فوادچوہدری، الیکشن

کمیشن، ایف آئی اے اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔سمیع اللہ ابراہیم نامی شہری نے وکیل راجہ رضوان عباسی کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔درخواست گزار نے استدعا کی ہے کہ فواد چوہدری کو بطور رکن اسمبلی جو مراعات دی جارہی ہیں واپس لی جائیں اور ان کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ درج کیا جائے۔



کراچی آخر کس کی ذمہ داری ہے؟ مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو اس لاک ڈاؤن سے الگ کر لیا ہے اگر ن لیگ بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے تو کیا مولانا فضل الرحمن پھربھی لاک ڈاؤن کریں گے؟ جاوید چودھری کاتجزیہ

دنیا کے بڑے معاشی دماغ کہتے ہیں انسان کمانے سے امیر نہیں ہوتا‘ مسلسل کمانے‘مسلسل کماتے رہنے سے امیر ہوتا ہے بالکل اسی طرح آپ ایک بار صفائی کرنے‘ ایک بار صاف ستھرے ہونے سے پاک صاف نہیں ہو جاتے‘ صاف ہونے کے لیے مسلسل صفائی ضروری ہوتی ہے لیکن ہم کراچی کے معاملے میں یہ حقیقت بھول جاتے ہیں‘ ہم شہر کو ایک بار چمکا کر‘
اس کا کچرا ایک بار صاف کر کے کہہ دیتے ہیں لیجیے ہم نے شہر صاف کر دیا‘ کراچی یوں صاف نہیں ہوگا‘آپ ایک سائیڈ کا کچرا اٹھا کر دوسری سائیڈ پر پھینک کر

کراچی کو صاف ڈکلیئر نہیں کر سکیں گے۔ اس کے لیے آپ کو مسلسل صفائی اور صفائی کا مستقل بندوبست کرنا پڑے گا مگر بدقسمتی سے کراچی ایک ایسا بدقسمت شہر ہے جس میں گندگی تیسرے فیز میں داخل ہو چکی ہے‘ پورے شہر کو مکھیوں نے نرغے میں لے لیا ہے‘ یہ دنیا کا واحد ساحلی شہر بن چکا ہے جس میں اربوں کی تعداد میں مکھیاں ہیں اور یہ مکھیاں شہر کو ”ٹیک اوور“ کر چکی ہیں بس کسی دن کوئی وبا پھوٹنے کی دیر ہے اور یہ شہر المیہ بن جائے گا‘ آپ بدانتظامی کی انتہا دیکھیے کراچی کی صفائی میں وفاقی‘ صوبائی اور بلدیاتی تینوں حکومتیں ناکام ہو چکی ہیں‘ یہ تینوں ملبہ ایک دوسرے پر ڈال رہی ہیں، کراچی آخر کس کی ذمہ داری ہے، مولانا فضل الرحمن نے اکتوبر میں اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کر رکھا ہے لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے خود کو اس لاک ڈاؤن سے الگ کر لیا، اب ن لیگ بچی ہے‘ اگر ن لیگ بھی پیچھے ہٹ جاتی ہے تو کیا مولانا فضل الرحمن پھربھی لاک ڈاؤن کریں گے؟



اسلام آباد، تھانے کے  اندر ہنگامہ،30سے زائد افراد کی زبردست لڑائی،ڈنڈوں اورپتھروں سے حملے،حیرت انگیز واقعہ

اسلام آباد(آن لائن) راستہ کے تنازعہ پر تمہ گاؤں میں  معمولی جھگڑے کے بعد تھانہ شہزاد ٹاؤن آنے والی دو پارٹیوں کے 30 سے زائد افراد پولیس کی ناقص حکمت عملی اور مجرمانہ غفلت کی وجہ سے تھانے کے اندر گھتم گتھا ہوگئے اور ڈنڈوں اور پتھروں سے ایک دوسرے پر حملہ آور ہوگئے.  اسی دوران پرانے ماڈل کی لینڈ کروزر گاڑی میں سوار ابرار خان نامی شخص آپے سے باہر ہوگیا اور تھانے کے اندر پارکنگ میں کھڑی اپنے مخالفین کی کرولا گاڑی کو  لینڈ کروزر گاڑی سے ٹکر یں مارتے ہوئے کئی فٹ دور تک گھسیٹ کر تباہ

کردی
اور پولیس کی موجودگی میں گاڑی سمیت تھانے سے فرار ہوگیا.. واقعہ میں کرولا کار میں سوار چار افراد شدید زخمی ہوگئے جبکہ تھانے کے اندر کھڑی ایک دوسری گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا. پولیس نے وائرلیس پر محرم الحرام کے جلوس پر تعینات نفری بھی طلب کرلی. بعدازاں شہزاد ٹاؤن پولیس نے ریزرو نفری کی مدد سے دونوں پارٹیوں کے پندرہ سے زائد افراد کو حراست میں لے کر ایف آئی آر درج کرلی. ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ سات ستمبر کی رات پونے بارہ بجے پیش آیا. پولیس نے اپنی مدعیت میں واقعہ کا مقدمہ  درج کرلیا ہے.



اسلام آباد میں دھرنے کا حتمی فیصلہ،جے یو آئی (ف) نے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کردیں، دھماکہ خیز اقدامات

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء  اسلام (ف) نے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے سے متعلق ابتدائی طور پر چھ کمیٹیاں تشکیل دیدی ہیں،29رہنماؤں پر مشتمل مختلف کمیٹیوں کو عوامی رابطہ مہم تیز کرنے کیساتھ ٹاسک دیتے ہوئے اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے سے متعلق علیحدہ علیحدہ ڈیوٹیاں سونپ دی گئیں۔انتہائی معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چھ کمیٹیوں میں سے ٹریڈ چیمبرز آف کامرس رابطہ کمیٹی جس میں حاجی غلام علی چیئرمین جبکہ مولانا فضل الٰہی حقانی، طلحہ محمود، علامہ ابتسام الٰہی ظہیر اور کامران مرتضی ایڈووکیٹ ممبر ہوں گے،
دوسری کمیٹی وکلاء  سول سوسائٹی سے متعلق بنائی گئی

ہے جس میں کامران مرتضی ایڈووکیٹ  چیئرمین، مولانا فضل علی، طلحہ محمود، علامہ ابتسام الٰہی اور حاجی غلام علی ممبر ہوں گے۔تیسری کمیٹی علماء  و مشائخ سے رابطہ کرنے سے متعلق عمل میں لائی گئی ہے جس میں خواجہ مدثر چیئرمین جبکہ مولانا شاہ اویس نورانی، مولانا اللہ وسایا اور سائیں عبدالقیوم ممبر ہوں گے، چوتھی کمیٹی سیاسی رابطہ کمیٹی کے نام سے منسوب کی گئی ہے جس میں اکرام خان درانی بطور چیئرمین جبکہ مولانا شاہ اویس نورانی، مولانا اسد محمود، طلحہ محمود اور علامہ شفیق پسروری ممبر ہوں گے۔پانچ سفارتی رابطہ کمیٹی کے نام سے متعارف کرائی گئی ہے جس میں جلال الدین خان ایڈووکیٹ بطور چیئرمین اور مولانا شاہ اویس نورانی، کامران مرتضی، مولانا لطف الرحمان، خواجہ مدثر اور عاصیہ ناصر ممبر ہوں گے۔چھٹی میڈیا رابطہ کمیٹی بنائی گئی ہے جس میں اسلم غوری چیئرمین  جبکہ امجد خان، مولانا صلاح الدین ایوبی اور علامہ شفیق پسروری ممبر کے فرائض سرانجام دیں گے۔جے یو آئی (ف) ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے چھ کمیٹیاں ترتیب دیتے ہوئے تمام ممبران کو کہا ہے کہ وہ عوامی رابطہ مہم تیز سے تیز تر کردیں اور بھرپور قوت کے ساتھ اسلام آباد کو لاک ڈاؤن کرنے کے لئے اپنی توانائی صرف کریں  اور انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اسلام آباد لاک ڈاؤن کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی اس سے قبل ہی حکومت اپنے انجام کو پہنچ جائے گی کیونکہ کشمیر سے لے کر مہنگائی تک تمام تر محاذوں پر حکومت فیل ہو چکی ہے۔



اسلام آبادمیں قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب فائرنگ ایک طالبعلم اور ایک طالبہ زخمی،جانتے ہیں زخمی ہونیوالا شخص کون نکلا؟

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک طالبعلم اور ایک طالبہ کو زخمی کردیا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر علاج معالجے کے لیے پولی کلینک اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ڈاکٹرانہیں طبی امداد فراہم کررہے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کرنے والے موٹر سائیکل پہ سوار تھے اور گولیاں مارنے
کے بعد جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اسلام آباد میں واقع قائد اعظم یونیورسٹی کے قریب فائرنگ سے کمال اور ثانیہ زخمی ہوئے ہیں۔ کمال کے متعلق پولیس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ پختون کونسل کا جوائنٹ سیکریٹری

ہے۔ میڈیا کو ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین سید نے بتایا ہے کہ علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے اور ملزمان کی تلاش جاری ہے۔



ملک بھر میں یوم دفاعِ پاکستان یکجہتی کشمیر کیساتھ منایا گیا، 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی، اسلام آباد اورراولپنڈی میں ریلیاں

اسلام آباد(آن لائن)ملک بھر میں حسب روایات یوم دفاعِ پاکستان ملی جوش و جذبے اور شہدائے وطن کے ساتھ محبت و عقیدت کے ساتھ منایا گیا قوم اس بار یوم دفاع و شہداء کے سنگ یوم یکجہتی کشمیر بھی کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرہ مستانہ کے ساتھ منایا گیا ، وزیراعظم عمران خان مظفرآباد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کی تقریب سے خطاب کیا شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے جنرل ہیڈکوارٹرز
(جی ایچ کیو) میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب ہوئی۔یومِ دفاع پاکستان پر وفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز 31 اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21 توپوں کی

سلامی سے ہوا جب کہ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی اور کشمیریوں کی آزادی کی دعائیں کی گئیں۔یوم دفاع پر وزیراعظم عمران خان آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد گئے جہاں انہوں نے کشمیری شہدا کے حوالے سے تقریب سے خطاب کیا وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق صوبائی دارالحکومتوں میں خصوصی تقریبات ہو ئیں جن میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے پاکستانی عوام کو یوم دفاع پر شہدا کے خاندانوں کے پاس جانے اور شکریہ ادا کرنے کی بھی ہدایات دی کراچی میں مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب ہوئی جس میں پی اے ایف اصغرخان اکیڈمی کیکیڈیٹس نے گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، 55 کیڈیٹس پر مشتمل دستے میں 5 خواتین کیڈیٹس بھی شامل ہیں۔گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے مہمان خصوصی ائیرآفیسر کمانڈنگ اصغرخان اکیڈمی ائیروائس مارشل حامد رشید تھے۔ وفاقی حکومت کے اعلان کے مطابق ملک بھر میں دفاتر دن تین بجے کے بعد بند کردیے گئے، ملازمین نے یوم دفاع پاکستان منانے کے ساتھ ساتھ یوم یکجہتی کشمیر بھی منایا اور شہدا کے اہل خانہ کے گھر گئے اور شہدا کی یادگار پر حاضری دی ۔ْمظلوم کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے اسلام آباد اور راولپنڈی میں ریلیاں نکالی گئیں اور سمینار کا انعقاد کیا گیا