Tag Archives: سفارتخانے

اسلام آباد میں بھارتی یوم آزادی کی تقریبات منعقد ہونگی یا نہیں ؟اہم فیصلے کر لئے گئے، جانتے ہیں جاتے جاتے ہائی کمشنر نے سفارتخانے میںکیا کام کیا؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ وطن واپسی کیلئے پروگرام میں تبدیلی کے بعد گزشتہ شب اسلام آباد ایئرپورٹ سے غیر ملکی پرواز کے ذریعےدبئی روانہ ہوگئے، اس سے پہلے انہوں نےاسلام آباد سے بذریعہ موٹروے لاہور روانہ ہونا تھا جہاں سے براستہ واہگہ نئی دہلی جانا تھا، روانگی سے قبل بھارتی ہائی کمشنر نےہائی کمیشن میں ایک غیر رسمی تقریب میں عملے سے خطاب کیا،اس موقع پر ہائی کمیشن کے
عملے نےان سے وابستگی کے جذبات کااظہار کرتے ہوئے انہیں الوداع کیا،دریں اثناء معلوم ہوا ہے کہ بھارت کی یوم آزادی کے حوالہ سے ہائی کمیشن کی جانب

سے اسلام آباد میں تقریبات کومنسوخ کردیاگیا ہے،ذرائع کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن 15اگست کواپنے یوم آزادی کی تقریب محدود سطح پر ہائی کمیشن میں ہی کریگا۔یا درہے کہ مقبوضہ کشمیر سے متعلق اقدامات کے بعد پاکستان نے بھارت سے تمام تعلقات منقطع کر دئیے تھے ۔



امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یا

اسلام آباد(آ ن لائن)امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، ایک ماہ گزر جانے کے باوجود پاکستانی حکام مبینہ گاڑی کی دستاویزات اور گاڑی کا سراغ لگانے میں ناکام،جبکہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی،دوسری جانب وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یاہے۔ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے یہ فیصلہ امریکی سفارتخانے کی ایک ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کے حوالے سے میڈیا میں
گزشتہ ماہ شائع ہونے والی خبر کے بعد کیا ہے۔اس معاملے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے امریکی سفارتخانہ

سالانہ سینکڑوں گاڑیاں پاکستان درآمد کرتا ہے جن میں سے بیشتر گاڑیاں امریکی سفارتکار مشن مکمل ہونے کے بعد واپس امریکہ لے جاتے ہیں اوردیگر گاڑیاں وزارت خارجہ کی اجازت سے پاکستان میں ہی فروخت کر دیتے ہیں جبکہ ان میں چند گاڑیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ایسی ہی ایک گاڑی کے حوالے سے گزشتہ ماہ ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں سال 2015میں ”لاپتہ“ ہونے والی امریکی سفارتخانے کی مبینہ گاڑی اوراسکی درآمدگی کی دستاویزات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔2004ماڈل کی یہ ٹویوٹا کراؤن گاڑی 2015میں امریکی سفارتخانے نے درآمد کی تھی مگر اس کی درآمدگی کی دستاویزات وزارت خارجہ اور امریکی سفارتخانے کے حکام کی ملی بھگت سے غائب کر دی گئی تھیں۔دستاویزات میں وہ لیٹر بھی شامل تھا جس میں امریکی سفارتخانے کے نئے آنے والے ملازم جیک ایلن مورٹینسن کے نام پر مبینہ گاڑی کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی تھی۔دستاویزات غائب کرنے کے عوض دفتر خارجہ کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر امریکی سفارتخانے نے ’ڈالروں‘کی بارش کی اور انعام کے طور پر عروسہ مظہر نامی خاتون کو امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی دی۔اس کے علاوہ اس کیس میں ملوث امریکی سفارتخانے کے ایک ملازم شیخ زبیر کو امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوا دیا گیا
جبکہ اسی ڈیپارٹمنٹ کے دیگر چار ملازمین کو خصوصی مراعات سے نوازا گیااور انہیں بھی آنے والے دنوں میں امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوائے جانے کے امکانات ہیں۔واضح رہے کہ مبینہ گاڑی کی درآمد کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں مگر تاحال اس گاڑی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جو کہ متعلقہ اداروں خصوصاً دفتر خارجہ اور کسٹمز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ درآمد شدہ گاڑی جسے چیک نہیں کیا گیا،اس میں ممکنہ طور پر جدید قسم کے جاسوسی کے آلات نصب ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔



امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یا

اسلام آباد(آ ن لائن)امریکی سفارتخانے کی ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کا معاملہ، ایک ماہ گزر جانے کے باوجود پاکستانی حکام مبینہ گاڑی کی دستاویزات اور گاڑی کا سراغ لگانے میں ناکام،جبکہ قومی سلامتی کے لئے خطرہ بننے والے افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی عمل میں نہ لائی گئی،دوسری جانب  وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے کو مزیدگاڑیاں درآمد کرنے سے روک د یاہے۔
ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے یہ فیصلہ  امریکی سفارتخانے کی ایک ”مشتبہ لاپتہ گاڑی“ کے حوالے سے میڈیا میں گزشتہ ماہ شائع ہونے والی خبر کے بعد کیا ہے۔اس معاملے کے حوالے سے ذرائع نے بتایا ہے  امریکی

سفارتخانہ سالانہ سینکڑوں گاڑیاں پاکستان درآمد کرتا ہے جن میں سے بیشتر گاڑیاں امریکی سفارتکار مشن مکمل ہونے کے بعد واپس امریکہ لے جاتے ہیں اوردیگر گاڑیاں وزارت خارجہ کی اجازت سے پاکستان میں ہی فروخت کر دیتے ہیں جبکہ ان میں چند گاڑیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں ملتا۔ایسی ہی ایک گاڑی کے حوالے سے گزشتہ ماہ ایک خبر شائع  ہوئی تھی جس میں سال 2015میں ”لاپتہ“ ہونے والی امریکی سفارتخانے کی مبینہ گاڑی  اوراسکی درآمدگی کی دستاویزات سے متعلق سوالات اٹھائے گئے تھے۔2004ماڈل کی یہ ٹویوٹا کراؤن گاڑی 2015میں امریکی سفارتخانے نے درآمد کی تھی مگر اس کی درآمدگی کی دستاویزات وزارت خارجہ اور امریکی سفارتخانے کے حکام کی ملی بھگت سے غائب کر دی گئی تھیں۔دستاویزات میں وہ لیٹر بھی شامل تھا جس میں امریکی سفارتخانے کے نئے آنے والے ملازم جیک ایلن مورٹینسن کے نام پر مبینہ گاڑی کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی تھی۔دستاویزات غائب کرنے کے عوض دفتر خارجہ کے پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ کے افسران پر امریکی سفارتخانے نے ’ڈالروں‘کی بارش کی  اور انعام کے طور پر عروسہ مظہر نامی خاتون کو امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت بھی دی۔
اس کے علاوہ اس کیس میں ملوث امریکی سفارتخانے کے ایک ملازم شیخ زبیر کو امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوا دیا گیاجبکہ اسی ڈیپارٹمنٹ کے دیگر چار ملازمین کو خصوصی مراعات سے نوازا گیااور انہیں بھی آنے والے دنوں میں امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوائے جانے کے امکانات ہیں۔واضح رہے کہ مبینہ گاڑی کی درآمد کو چار سال مکمل ہو چکے ہیں مگر تاحال اس گاڑی کا سراغ نہیں لگایا جا سکا جو کہ متعلقہ اداروں خصوصاً دفتر خارجہ اور کسٹمز کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ درآمد شدہ گاڑی  جسے چیک نہیں کیا گیا،اس میں ممکنہ طور پر جدید قسم کے جاسوسی کے آلات نصب ہو سکتے ہیں۔اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کے ترجمان نے بھی مؤقف دینے سے انکار کر دیا ہے۔



مختلف ممالک کے سفارتخانے شراب کی سمگلنگ میں ملوث،ایک ماہ میں کتنے ممالک کے کنٹینرز پکڑ ےگئے،شراب کی ویلیو کتنی ہے؟تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (این این آئی)مختلف ممالک کے سفارتخانوں کا  شراب کی اسمگلنگ میں ملوث ہونے کا انکشاف  ۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران آٹھ ممالک کے کنٹینرز پکڑ کر ضبط کئے گئے، ذرائع کے مطابق سفارتخانوں کو اگر شراب منگوانی ہوتی ہے تو اس کے لئے باقاعدہ طور پر  اجازت طلب کرنا ضروری ہے۔ذرائع نے بتایاکہ یہ کنٹینرز جن سے شراب برآمد ہوئی انکو شک کی بنیاد پر کراچی میں کسٹمز حکام نے روکا،روکے جانے
کے بعد حکام نے دفترخارجہ کو کنٹینرز کھولنے کے لئے لکھا۔ ذرائع نے بتایاکہ دفترخارجہ نے آگے متعلقہ سفارتخانے کو کنٹینرکھولے جانے سے

متعلق آگاہ کیا جس پر سفارتخانے، دفترخارجہ حکام اور کسٹم حکام کی موجودگی میں کنٹینر کھولا گیا،برآمد شراب کی پاکستان میں ویلیو تقریباً پندرہ سے بیس کڑوڑ روپے ہے،آٹھ ممالک میں سے سات کے کنٹینرز کھولے گئے ہیں،ان ممالک میں ساؤتھ افریقا، نارتھرن سائپرس، بوسنیا، سیریا، لبنان اور انڈونیشیا شامل ہے ۔



پاکستان آنے کے خواہشمند افغانیوں نے ہی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا

کابل(این این آئی) افغان حکومت پاکستانی سفارتخانے کی حفاظت میں غافل نکلی ،پاکستان آنے کے خواہشمند افغانیوں نے ہی سفارتخانے پر دھاوا بول دیا۔ ذرائع کے مطابق سفارتخانے کے باہر موجود سیکیورٹی اہلکاروں نے صورتحال کو قابو میں کرلیا۔ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کی جانب سے معاملے
میں دخل پر سفارتخانے کے باہر شدید احتجاج کیا گیا ،مظاہرین نے تین مطالبات سامنے رکھے۔ مظاہرین نے کہاکہ ویزا کے اجرا میں تیزی لائی جائے، ویزہ اجراء کیلئے زیادہ کائونٹر بنائے جائیں۔ ذرائع کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانہ اس وقت روزانہ کی بنیاد پر دوہزار ویزے جاری کرتا



اسلام آبادمیں قائم امریکی سفارتخانے کی مشکوک سرگرمیاں، مبینہ طور پر اپنے سفارتکار کے نام پر گاڑی درآمد ، ملی بھگت سے پہلے وزارت خارجہ سے ریکارڈ ،بعد ازا ں گاڑی ہی غائب کردی

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کی مشکوک سرگرمیاں،امریکی سفارتخانے نے مبینہ طور پر اپنے سفارتکار کے نام پر گاڑی درآمد کرنے کے بعد ملی بھگت سے وزارت خارجہ سے گاڑی کا ریکارڈ جبکہ بعد ازا ں گاڑی بھی غائب کردی۔گاڑی کہاں ہے، کس کے زیر استعمال ہے اور درآمد کی گئی گاڑی میں کیا کیا موجود تھا ۔
امریکی سفارتخانے کا کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار۔دستیاب دستاویزات کے مطابق سال 2015میں امریکی سفارتخانے کے ملازم جیک ایلن موٹینسن کے نام پر ایک ٹویوٹا کرائون 2004ماڈل گاڑی پاکستان درآمد کی جسے امریکی سفارتخانے کے ایک ڈرائیور

نے اسلام آباد میں کارگو دفتر سے وصول کیا۔اس سے قبل امریکی سفارتخانے کی جانب سے فروری 2015میں وزارت خارجہ کوایک لیٹر لکھا گیا جس میں سفارتخانے کے نئے آنے والے ملازم جیک ایلن مورٹینسن کے نام پر مبینہ گاڑی کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی تھی ،جبکہ سبکدوش ہونے والے ڈیوڈ ایش فورڈکے لئے ان کی گاڑی کو واپس لیجانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق درآمد شدہ گاڑی کو چیک بھی نہیں کیا گیااور نا ہی وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے سے پوچھنا مناسب سمجھا کہ2015میں امریکی سفارتخانہ کیوں 2004ماڈل کی پرانی کارپاکستان منگوانا کرنا چاہتا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ گاڑی کے پاکستان آنے کے بعدجیک ایلن مورٹینسن نے گاڑی کو ایک بار بھی استعمال نہیں کیااور کچھ عرصہ بعد سفارتکار جیک ایلن مورٹینسن اپنی مدت پوری کر کے واپس امریکہ چلے گئے ۔ قانون کے مطابق وزارت خارجہ کا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ گاڑی کی درآمدگی کی اجازت دیتا ہے اور گاڑی کی درآمد گی کے بعد اس کی رجسٹریشن کرتا ہے ۔
جبکہ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ اوروزارت خارجہ کے حکام کی ملی بھگت سے مبینہ گاڑی کی رجسٹریشن نہیں کروائی گئی اور نا ہی سفارتکار مورٹینسن سے ان کی واپسی کے وقت مبینہ گاڑی کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ قانون کے مطابق ایسی گاڑی کو فروخت یا ضائع کرنے یا اسے اپنے ساتھ واپس لے جانے کے لئے متعلقہ سفارتکار کو وزارت خارجہ سے اجازت درکار ہوتی ہے۔
ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مبینہ گاڑی کو فروخت، ضائع یا اسے واپس امریکہ نہیں لے جایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی ریکارڈ وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے۔ گاڑی وصول کرنے والے امریکی سفارتخانے کے ڈرائیور کے بیان کے مطابق وہ شپنگ ڈیپارٹمنٹ کے سپر وائزرکی ہدایت پرگاڑی ایک ورکشاپ میں چھوڑ آیا تھااور تاحال اس گاڑی کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کا مؤقف جاننے کے لئے جب رابطہ کیا گیا توامریکی سفارتخانے کے ترجمان رچرڈ سنیلسائرنے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آپ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے رابطہ کریں۔
جبکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی اس بارے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کومبینہ گاڑی کی لوکیشن کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں اور امریکی سفارتخانے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ گاڑی کہاں ہے اور کون استعمال کر رہا ہے۔ اس کیس میں ملوث امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ملازم کوامریکی سفارتخانے نے اسے امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوا دیا ہے۔جبکہ دیگرچار ملازمین کو آنے والے دنوں میں ایسی ہی مراعات سے نوازے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔واضح رہے اس سے قبل امریکی سفارتخانہ متعدد گاڑیاں پاکستان درآمد کر چکا ہے مگر ایسی کتنی گاڑیاں اب تک غائب ہو چکی ہیں اس بارے میں کوئی ریکارڈ وزارت خارجہ کے پاس موجود نہیں جوکہ پاکستان کی سلامتی کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

موضوعات:

loading…