Tag Archives: لئے

مولانا فضل الرحمن 50سے 60بندے کس لئے مروائیں گے؟ کارکنوں کو کس کام کیلئے تیار کیا جارہاہے؟امیر جے یو آئی نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے۔لیکن بے مقصد فراڈ جمہوریت کا حسن نہیں ہے۔لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنا جمہوریت نہیں۔بے شک احتجاج کرنا مولانا فضل الرحمن کا حق بنتا ہے۔
لیکن مولانا فضل الرحمن یہ بتائیں کہ آپ جتنی دیر اقتدار میں رہے اس قوم کے لیے کیا کیا؟کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ دونوں کے لیڈر جیل کے اندر ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔کے پی کے میں

لوگوں کو روزگار نہیں ملا۔ان کے پاس سڑکیں نہیں، علاج کرنے کے لیے ہسپتال نہیں ۔ وزیراعظم کو ہٹانا ہے تو آئینی طریقے سے ہٹائیں۔مولانا فضل الرحمن جس کشمیر کمیٹی کے رکن رہے اس کے لیے آپکی زبان کبھی نہیں کھلی۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر کچھ نہیں کہا۔کاش ووٹ کو عزت دینے والے واقعی ووٹ کو عزت دیتے،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ 50 سے 60 بندے کس لیے مروائیں گے؟۔یاد رہے کہ پہلے بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کو فوج کے خلاف تیار کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن جانتے ہیں کہ جب وہ اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو اہم تنصیبات، اہم اداروں اور اہم مقامات کی سکیورٹی فوج کے پاس ہو گی۔اس لیےمولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کو ذہنی طور پر تیار کر کے لا رہے ہیں کہ اگر فوج ڈیوٹی پر ہو تو یہ پاک فوج کے جوانوں سے بھی لڑ جائیں اور ان جوانوں پر بھی حملہ آور ہوں اور یہ انتہائی خطرناک چیز ہے۔ مولانا فضل الرحمن ان کارکنان کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔



عوام کیلئے زبردست خوشخبری، 392کلو میٹر نئی موٹر وے مکمل،آج ہلکی ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا

اسلام آباد(آن لائن) وزارت مواصلات نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے پریس ریلیز کے مطابق ملتان۔سکھر موٹروے (M-5)کو آج(جمعہ کو) ہلکی ٹریفک لے لئے کھول دیا جائے گا۔یہ موٹروے سی پیک کا اہم حصہ ہے۔ 6رویہ اس موٹروے کی لمبائی 392کلو میٹر ہے جس سے ملک کے
دو صوبوں پنجاب اور سندھ کے درمیان معاشی سرگرمیوں کی رفتار تیز ہو گی اور ملتان اور سکھر کے درمیان جی ٹی روڈ کے مقابلہ میں سفری اوقات میں خاطر خوہ کمی آئیگی۔اس موٹروے کی تکمیل سے صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ زرعی شعبہ بھی خاطر خواہ مستفید



پی ٹی آئی چھا گئی ،پاکستانیوں کو ایسا ریلیف جو آج تک کسی حکومت نے نہ دیا،عمران خان نے زبردست فیصلے کر لئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے17 ایسے فیصلے کر لیے جن سے حکومت کی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق موجودہ حکو مت نے کراچی سمیت ملک بھر میں بجلی اورگیس بل جمع کرانے کی مقررہ مدت 6 دن سے بڑھا 15 دن کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
بل جمع کروانے کی مختصرمہلت کے باعث بجلی وگیس صارفین کو سالانہ 10ارب روپے جرمانہ اداکرنا پڑتاتھا ۔ وزیراعظم نے درجہ چہارم کے ملازمین کی وفاقی حکومت میں ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کے لیے حتمی سمری اورتشدد کا شکار بچوں اور

دیگر ناانصافیوں کا شکار افراد کے لیے لاء ڈویژن ایک ہفتے کے اندر عمران خان لیگل ہیلپ لائن لانچ کرنے کی ہدایت کردی ہے ۔متحدہ عرب امارات،قطر اور دوسرے مشرق وسطیٰ کے ملکوں کی مدد سے ملازمت کے مواقع میں آسانی پیدا کرنے کے لیے ایک ماہ کے اندر 4 مختص شدہ ڈرائیونگ لائسنس سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ وزارت خار جہ کے بیرون ملک مشنز کو برآمدات،کاروبار اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے حوالے سے نئی جہت دینے کی ہدایت کی گئی ہے جس سے بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جائے گا ۔ ایوی ایشن ڈویژن موسم کی تازہ ترین صورتحال جاننے کے لیے ایک ماہ کے اندر موبائل ایپ متعارف کروائے گا ۔ وزارت صحت ایک ہفتے میں پمز کی طرز پراو پی ڈیز میں مریضوں کی سہولت کے لیے قطار اور ٹوکن کا نظام متعارف کروائے گی۔پانی کی بہتر ترسیل کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جے آئی سی اے کی مدد سے ایک ماہ کے اندر پائلٹ پراجیکٹ کا آغاز کرے گا ۔
پاکستان ریلویز کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری ریلویز کے ساتھ مل کر اعلیٰ سطح پر قابل افسران بھرتی کریں گے۔ اوور سیز پاکستانی ڈویژن 15 دن کے اندر کال سرزمین موبائل ایپ لانچ کرے گا ۔عوام کو سینیٹ اور قومی اسمبلی کی کارروائی دکھانے کے لیے عام آدمی گیلری مختص کی جائے گی اور سرکاری دفاتر میں عوام کی سہولت کے لیے اہل فرنٹ ڈیسک افسران کا تقر ر کیا جائے گا۔



”یہاں تو فیصلے ویڈیو دکھا کر لئے جاتے ہیں“وہ کون لوگ ہیں جو ججوں کو ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے ہیں؟کیپٹن (ر) صفدرکھل کر بول پڑے

لاہور(این این آئی)سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت کا بیانیے کو مقبولیت ملی ہے،اس عدالت کا سوچنا چاہیے جس کے جج کی ویڈیو دکھا کر فیصلہ لیا گیا۔مقامی عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کہا کہ یہاں تو فیصلے
ویڈیو دکھا کر لئے جاتے ہیں،جج نے اپنی ویڈیو میں کیا کہا؟۔اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو ججوں کو ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے ہیں۔بعد ازاں انہوں نے

حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار مبارک پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی۔اس موقع پر لیگی رہنما ہارون بھٹہ، مرزا جاوید سمیت دیگر کارکنان بھی ان کے ہمراہ تھے۔



پنجاب میں پولیس گردی،ملک کا سب سے بڑا صوبہ عثمان بزدار کے ہاتھ سے نکل گیا،وزیراعظم نے وفاق کی 27 وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کر دیا‘ یہ لیٹر کس لئے جاری کیاجاتاہے؟کیا نوازشریف واقعی”ڈیل“ کر رہے ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

آج لاہور میں ایک انتہائی شرم ناک واقعہ پیش آیا‘ اے ایس آئی آصف نے آئی جی آفس کے سامنے ایک بزرگ خاتون کے ساتھ بدتمیزی بھی کی‘ گالیاں بھی دیں اور اس کی سٹک بھی اٹھا کر پھینک دی، یہ ہے وہ پولیس کلچر جسے تبدیل کرنے کا نعرہ لگا کر عمران خان اقتدار میں آئے تھے۔۔لیکن تبدیلی تو دور یہ کلچر مزید خوف ناک ہو چکا ہے‘ آپ صرف چند دن کے واقعات دیکھ لیں‘ پولیس کے ہاتھوں سات لوگ مارے جا چکے ہیں‘
لاہور کے اندر تھانہ اکبری گیٹ میں پولیس نے ملزم کو پھندہ لگا کر مار

دیا‘ گجر پورہ تھانے میں ملزم کو تشدد سے مار دیا گیا‘ شمالی چھاؤنی تھانے میں بھی ملزم پولیس کی بربریت کا رزق بن گیا اوررحیم یار خان میں پولیس کے ہاتھوں ذہنی معذور صلاح الدین کی ہلاکت نے تو پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ پنجاب میں بڑے تواتر سے پولیس کے نجی ٹارچر سیل بھی نکل رہے ہیں‘ یہ کیا ہو رہا ہے‘ عمران خان کے وسیم اکرم پلس چیف منسٹر کہاں ہیں؟ کیا عمران خان کو محسوس نہیں ہو رہا ملک کا سب سے بڑا صوبہ عثمان بزدار کے ہاتھ سے نکل چکا ہے‘ پولیس بھی اب ان کے کنٹرول میں نہیں رہی‘ وفاق میں حالات کیا ہیں؟ آپ صرف ایک حقیقت سے اس کا اندازہ بھی لگا لیجیے‘ آج وزیراعظم نے وفاق کی 27 وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کر دیا‘ یہ لیٹر آخری وارننگ اور انتہائی ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے‘ ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنی وزارتوں کو ریڈ لیٹر جاری کیا گیا‘ کیا وزیراعظم اب بھی اپنے اپنی ٹیم سے امیدیں لگاکر بیٹھے ہیں‘ ان کی آنکھیں کب کھلیں گی۔ وفاقی ادارہ برائے شماریات نے حکومت کے ایک سال میں مہنگائی کے اعدادوشمار جاری کر دیے‘ ایک سال میں ملک میں ہر چیز مہنگی ہو گئی‘ مہنگائی میں مجموعی طور پر 11 فیصد اضافہ ہوا‘ یہ اضافہ کتنا ہے اور عام آدمی کے حالات کیا ہیں؟ اور میاں نواز شریف نے جیل سے پیغام دیا ن لیگ لاک ڈاؤن میں مولانا فضل الرحمن کا ساتھ دے اور وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گے۔



صلاح الدین کے جسم پر گرم استری کے نہیں بلکہ فارنزک سائنس ایجنسی کیلئے لئے گئے جلد کے نمونوں کے نشان ہیں، سوشل میڈیا پر وائرل تصویروں کی اصل کہانی سامنے آگئی

لاہور(ذرائع سے) صلاح الدین کا پوسٹ مارٹم شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان کے ایم ایس کی سربراہی میں چار رکنی ڈاکٹرز کے میڈیکل بورڈ نے انجام دیا۔  جسم کے 7 مختلف مقامات پر جلد کی بد رنگی سامنے آئی جو کہ مرنے کے بعد جسم پر نمودار ہونا ایک نیچرل عمل ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی تصویروں سے یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ تشدد کے دوران صلاح الدین کو گرم استری سے جلایا گیا، جب کہ جلد اترنے کے نشان اس وجہ سے نظر آرہے ہیں کہ پنجاب فارنزک
سائینس ایجنسی کو صلاح الدین کی جلد کے نمونے

بھیجے گئے ہیں، تاکہ شفاف طریقے سے اس کی جانچ ہوسکے اور ذمہ داروں کا تعین کیا جاسکے۔ دوسری جانب ریڈیلوجی رپورٹ کے مطابق جسم کے کسی حصہ میں فریکچر نہیں ہے، اور کسی اندرونی چوٹ یا بلیڈنگ بھی سامنے نہیں آئی۔ غیر حتمی رپورٹ کے مطابق موت کی وجہ تشدد نہیں۔ البتہ کیمیکل ایگزامینر اور پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی کی رپورٹ سے اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔



ایشز سیریز کا ٹائٹل نہ جیت سکے تو میرے لئے تیسرے ٹیسٹ کی میچ وننگ اننگز بے معنی ہوگی، بین سٹوکس

مانچسٹر( آن لائن )سٹار انگلش آل رائونڈر بین سٹوکس نے کہا ہے کہ اگر ایشز سیریز کا ٹائٹل نہ جیت سکے تو میرے لئے تیسرے ٹیسٹ کی میچ وننگ اننگز بے معنی ہو گی۔ سٹوکس نے آسٹریلیا کے خلاف تیسرے ایشز ٹیسٹ میچ میں 135 رنز کی غیرمعمولی اننگز کھیل کر ٹیم کو فتح دلوائی تھی۔ اپنے ایک بیان میں سٹوکس نے کہا کہ کینگروز کے خلاف تیسرا ایشز ٹیسٹ میچ جیتنے کے بعد اگلا ہدف ایشز سیریز کا ٹائٹل جیتنا ہے اور مقصد کے حصول کیلئے کھلاڑیوں کو بقیہ دونوں میچز میں خوب جان لڑانا ہو گی۔انہوں نے کہا

کہ آسٹریلوی
ٹیم مضبوط اور متوازن ہے، دوبارہ ایشز ٹائٹل جیتنے کیلئے کسی ایک کھلاڑی پر انحصار نہیں کر سکتے بلکہ ٹیم کے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری احسن طریقے سے نبھانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ایشز سیریز کا ٹائٹل جیتنے کے بعد میں تیسرے ٹیسٹ کی میچ وننگ اننگز پر مطمئن ہوں گا اور اگر ہم اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو میری اننگز بے کار ہو گی۔ ان کا کہنا ہے کہ بحیثیت سینئر پلیئر میری کوشش ہو گی کہ سیریز کے بقیہ دونوں میچز میں بھی عمدہ آل رائونڈ کارکردگی کا مظاہرہ کر کے ٹیم کو فتوحات دلانے میں کردار ادا کروں۔



امریکی پابندیاں مسترد، پاکستان اور ایران نے اربوں ڈالر مالیت کے گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق اہم فیصلے کر لئے

اسلام آباد( آن لائن )پاکستان اور ایران نے امریکی پابندیوں کے باوجود ایک بار پھر اربوں ڈالر مالیت کے آئی پی گیس پائپ لائن منصوبے کو 2024تک مکمل کرنے کیلئے تیسرا معاہدہ کرنے کا فیصلہ کرلیا، آئندہ ہفتے ترکی میں نیشنل ایرانیئن آئل کمپنی اور پاکستانی کمپنی انٹرسٹیٹ گیس سسٹم کے مابین توسیعی معاہدے پر دستخط ہو نگے۔
وزیراعظم عمران خان کے 21اپریل کو دورہ ایران کے دوران متعلقہ حکام کے مابین ایران پاکستان معاہدے میں توسیع اور ایران کی جانب سے جاری لیگل نوٹس واپس لینے کا اصولی فیصلہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق نئے معاہدے کے تحت پاکستان اگست 2024تک

اپنے علاقے میں پائپ لائن تعمیر کرکے 750ملین کیوبک فٹ گیس یومیہ خریدنے کا پابندہوگا بصورت دیگر ایران فرانس میں پاکستان کے خلاف کیس دائر کرکے بھاری جرمانہ عائد کرنے کا کیس دائر کریگا۔ پاکستان ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے سستی ترین گیس درآمد کرسکتا ہے۔ ایرانی فرانسیسی قانونی ماہرین کی مشاورت سے وزارت قانون نے گیس سیل پرچیز ایگریمنٹ میں ترمیم کے ذریعے 5سال کی توسیع کے قانونی پہلوئوں کی منظوری دی۔ اخباری ذرائع کے مطابق ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدے کے تحت یکم جنوری 2015سے گیس کا پہلا بہا شروع کیا جانا تھا لیکن ایران پر عالمی پابندیوں کے باعث پروجیکٹ پر عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔گیس ایران کی جنوبی گیس فیلڈ سے گوادر کے قریب پاک ایران بارڈر پر سپلائی کی جانی تھی۔پاک ایران بارڈر کا فاصلہ 1150کلو میٹر ہے جبکہ پاکستان کی طرف فاصلہ 781کلومیٹر بنتا ہے۔ایران نے اپنی طرف 900کلو میٹر کی پائپ لائن کی تعمیر مکمل کر لی۔پاکستان کو منتقل کی جانے والی گیس کا حجم 750ایم ایم ایف سی ڈی ہوگا جس کے تحت پاکستان کو 25 سال تک گیس ملے گی۔



حکومت نے اپنی ایک سالہ کارکردگی جانچنے کیلئے سروے میں عوام سے 16سوالات کے جوابات پوچھ لئے

لاہور(این این آئی)حکومت نے اپنی ایک سالہ کارکردگی جانچنے کیلئے عوام سے رائے لینے کافیصلہ کر لیا، سروے میں عوام سے 16سوالات کے جوابات پوچھے گئے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے بھی آگاہی حاصل کی گئی ہے۔ سامنے آنے والے فارم میں سب سے پہلے جنس، عمر،صوبے سے تعلق، تعلیم،2018ء کے انتخابات میں کس جماعت کوووٹ دیا اور آئندہ انتخابات ہوئے تو کس پارٹی کو ووٹ دیں گے کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔
مجموعی طو رپر پوچھے گئے 16سوالات میں سے پہلے سوال میں یہ استفسار کیا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں پی ٹی

ائی کی وفاقی حکومت نے مجموعی طور پر کس طرح کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا جس میں بہت اچھی، نہ چھی نہ بری، بری اور بہت بری کے چار آپشنز رکھے گئے ہیں۔ ایک سال میں حکومت کی کامیابی کیا ہے جس میں آئی ایم ایف سے ڈیل، اداروں میں اصلاحات، پناہ گاہوں کا قیام، احتسا ب اور خارجہ پالیسی کے آپشنز شامل ہیں۔ ایک سال میں پی ٹی آئی کی حکومت کی ناکامی سے متعلق بھی استفسار کیا گیا ہے اور اس میں چار آپشنز رکھے گئے ہیں جس میں معاشی کارکردگی، اداروں کی اصلاحات،مہنگائی اور احتساب شامل ہیں۔ یہ سوال بھی پوچھا گیا ہے کہ معیشت میں سب سے اہم مسئلہ کیا ہے جس کو پی ٹی آئی کی حکومت کو نمٹنا چاہیے جس میں ٹیکس اصلاحات، سرکاری کاروباری اداروں کوبہتر بنانا، نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، کاروبار کرنے میں اآسانی کے آپشنز شامل ہیں۔ سماجی خدمات میں سب سے اہم مسئلہ کیا ہے جس کو پی ٹی آئی کی حکومت کو نمٹنا چاہیے اس میں تعلیم، صحت پینے کا صاف پانی، موسمیاتی تبدیلی‘ دس ارب سونامی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں آگاہی حاصل کی گئی ہے۔ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ آپ کے خیال میں انتہائی اصلاحات کیا ہیں جس میں پولیس اصلاحات، حکومت میں بدعنوانی کی اصلاحات، عدالتی اصلاحات، سول سروس، بیورو کریسی میں اصلاحات، مقامی حکومت / بلدیات میں اصلاحات کا آپشن دیا گیا ہے۔
پاکستان کی سالمیت کے لئے اہم اصلاحات بارے بلوچستان مفاہمت، جنوبی پنجاب کی تخلیق، کراچی پیکج اور غربت میں کمی کاآپشن دیا گیا ہے۔سوالات میں زرعی اصلاحات میں حکومت نے اچھی کارکردگی بارے استفسار کیا گیا ہے اور اس کے لئے بہت اچھی، اچھی، نہ اچھی نہ بری، بری اور بہت بری کے آپشنز رکھے گئے ہیں۔ سوالات میں فاٹا اصلاحات میں حکومت کی کارکردگی بارے بھی استفسار کیا گیا ہے اور
اس کے لئے چار آپشنز رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح عدالتی، قانونی اصلاحات میں حکومت کی کارکردگی بارے استفسار کرکے چارآپش پوچھے گئے ہیں۔ مقامی /بلدیاتی حکومت کی اصلاحات میں پی ٹی آئی کی حکومت نے کتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔سیاحت،ٹیکس اورایف بی آر کی اصلاحات میں حکومت نے کتنی اچھی کارکردگی دکھائی۔ اس کے علاوہ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کی کارکردگی بارے بھی پوچھا گیا ہے۔یہ سروے آن لائن ہوگا جسے لنک کے ذریعے اوپن کر کے سوالات کے جوابات دئیے جا سکیں گے۔



بے روزگاری کے خاتمے کے لئے حکومت کا بڑا اقدام، بغیر تھرڈ گارنٹی نوجوان براہ راست بینکوں سے 50 لاکھ تک قرضے لے سکیں گے

اسلام آباد (این این آئی)وزیرِ اعظم نے کامیاب جوان پروگرام ترتیب دینے پر معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، مناسب مواقع ملنے پر وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ منواتے ہیں،چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی کے فروغ میں بھی ممدو معاون ثابت ہوگا، کامیاب جوان پروگرام کا باقاعدہ آغاز وزیرِ اعظم ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریں گے۔
جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کو نوجوانوں کی ترقی اور انکوکاروباری مواقع فراہم کرنے کے سلسلے میں شروع کیے

جانے والے ”کامیاب جوان“پروگرام پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس میں معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار، معاون خصوصی نعیم الحق، قائم مقام گورنر سٹیٹ بنک آف پاکستان جمیل احمد، صدر نیشنل بنک آصف عثمانی، صدر بنک آف خیبر سیف الاسلام، صدر بنک آف پنجاب خالد صدیق ترمذی، چیئرمین نادرا عثمان یوسف مبین،چیئرمین این ٹی سی، چیئرمین این آئی ٹی بی، سی ای او سمیڈا و دیگر سینئر افسران شریک ہوئے۔ معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار نے وزیرِ اعظم کو کامیاب جوان پروگرام پر بریفنگ دی اور پروگرام کے خدو خال سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ سٹرٹیجک روڈ میپ کے پہلے مرحلے میں نیشنل یوتھ ڈویلپمنٹ فریم ورک مرتب کیا جا چکا ہے اور نیشنل یوتھ کونسل تشکیل دی جا چکی ہے، دوسرے مرحلے میں کامیاب جوان پروگرام کا باقاعدہ اجراء ستمبر سے کیا جا رہا ہے۔کامیاب جوان پروگرام کے تحت یوتھ انٹرپرینیور سکیم، گرین یوتھ موومنٹ، اسٹارٹ اپ پاکستان، انٹرن شپ پروگرام، ہنرمند جوان (اسکل فار آل)، اور نیشنل انٹر پرینیورپروگرام شروع کیے جائیں گے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت
ایک مخصوص پورٹل کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے، پورٹل کے تحت پروگرام سے استفادہ کرنے والے نوجوانوں کا تمام ریکارڈ مرکزی سطح پرجمع ہو سکے گا اور مستند اور قابل اعتماد ڈیٹا میسر آئے گا۔ ماضی کے پروگرام اور موجودہ حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کامیاب جوان پروگرام کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں نوجوانوں کو کاروبار کے لئے قرض فراہم کرنے کا دائرہ کار نہایت محدود تھا لیکن کامیاب جوان پروگرام کے تحت اس دائرہ کار کو بڑھا یا گیا ہے
اور قرض کی فراہمی کے لئے دودرجے بنائے گئے ہیں۔ پہلی درجہ بندی میں نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے ایک سے پانچ لاکھ روپے تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے جبکہ دوسری سطح پر پانچ سے پچاس لاکھ تک کے قرضے فراہم کیے جائیں گے۔ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کے لئے قرض کے حصول کے لئے کسی تیسرے فرد کی جانب سے بنکوں کو گارنٹی فراہم کرنے کی شرط کو ختم کر دیا گیا ہے اور نوجوان براہ راست پورٹل کے ذریعے بنکوں سے
قرض حاصل کر سکیں گے۔اس ضمن میں پہلے مرحلے میں تین بنک (نیشنل بنک، بنک آف خیبر اور بنک آف پنجاب) نوجوانوں کو براہ راست قرض فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت پورٹل کے قیام کا مقصد پروگرام میں مکمل شفافیت کو یقینی بنانا اور قرضوں کے حصول میں کسی قسم کے صوابدیدی اختیار، ذاتی پسند نا پسند یا کسی دیگروابستگی کو ملحوظِ خاطر لائے بغیر میرٹ کی بنیاد پر قرض فراہم کرنا ہے۔ پورٹل کی مدد سے نوجوان آن لائن درخواستیں جمع کرائیں گے جو نہ صرف فوری طور پر بنکوں تک پہنچیں گی بلکہ وزیرِ اعظم آفس میں بھی اس کامکمل ریکارڈ موجود ہوگا اور اس پورے عمل پر نظر رکھی جاسکے گی تاکہ شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ ماضی میں شروع کیے جانے والے پروگرام کے تحت دیے جانے والے قرضے محض ایک دو شعبوں تک محدود ہو کر رہ گئے تھے۔ کامیاب جوان پروگرام میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جا رہا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ای -کامرس اور اسی طرح کے دیگر جدیدشعبوں میں بھی نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے وافر مواقع میسر آئیں۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت پانچ سالوں میں ایک سو ارب روپے تک کے قرضے تقریبا ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت قرضوں کا حصول نہایت آسان بنا دیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے کامیاب جوان پروگرام ترتیب دینے پر معاون خصوصی برائے امور نوجوانان محمد عثمان ڈار کی کاوشوں کو سراہا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستانی نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے اور مناسب مواقع ملنے پر وہ ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا سکہ منواتے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی بلکہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی کے فروغ میں بھی ممدو معاون ثابت ہوگا۔ کامیاب جوان پروگرام کا باقاعدہ آغاز وزیرِ اعظم ستمبر کے پہلے ہفتے میں کریں گے۔