Tag Archives: ٹرین

نئے پاکستان کے رنگ نرالے، تاریخ کا انوکھا ترین واقعہ، عید پر چلائی جانے والی سپیشل ٹرین کے ساتھ ایسا ”حادثہ“ ہو گیا کہ مسافروں کے ہوش ہی اُڑ گئے

خانپور (نیوز ڈیسک) پاکستان ریلوے کی تاریخ میں انوکھا ترین واقعہ، انجن بوگیوں کو راستے میں چھوڑ کر آگے چلا گیا، واضح رہے کہ کراچی سے مسافروں کو لے کر راولپنڈی جانے والی خصوصی ٹرین کی تین بوگیاں اچانک الگ ہو گئیں اور مسافروں کو وہیں چھوڑتا ہوا انجن آگے بڑھ گیا، یہ واقعہ سٹی پارک کے نزدیک پیش آیا جہاں تین بوگیاں پیچھے رہ گئیں، ٹرین آدھا کلومیٹر آگے چلی گئی جہاں انہیں معلوم ہوا کہ تین بوگیاں تو پیچھے رہ گئی ہیں
جس کے بعد انجن دوبارہ پیچھے آیا، اس وقت تک مسافروں پریشانی کے عالم میں بوگیوں سے

باہر نکل چکے تھے اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ کیا ہوا ہے، اس واقعے کے بارے میں ریلوے ذرائع نے بتایا کہ بوگیوں کو ملانے والا پرزہ ٹوٹ گیا تھا جس کی وجہ سے یہ واقعہ ہوا، اس جوائنٹ کو مرمت کرنے کے بعد ٹرین کو راولپنڈی کے لیے روانہ کر دیا گیا، اس دوران کراچی سے راولپنڈی جانے والی ٹرینوں کی آمد و رفت معطل رہی۔



کشمیر پر ہونے والے ظلم پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے،پاکستان نے بھارت جانے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا اعلان  کردیا

اسلام آباد (این این آئی)وزیرریلوے شیخ رشید نے پاکستان اور بھارت کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس ٹرین ہمیشہ کیلئے بند کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے جو کچھ کیا وہ سوچی سمجھی سازش اور ان کا ایجنڈا ہے، یہ بہت پرخطر سال ہوگا، اس میں جنگ بھی ہوسکتی ہے،کشمیر پر ہونے والے ظلم پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، اگر جنگ مسلط کی گئی تو یہ آخری جنگ ہوگی۔
جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ کراچی جانے والی ہر ٹرین میں دو کوچز کے اضافے کا فیصلہ کیا ہے، عید

پر دو اسپیشل ٹرینیں چلائی ہیں، عید کے بعد ٹرین ٹائمنگ، کوچز اور صفائی میں بہتر تبدیلی لائیں گے، نئی 38 ٹریرنیں چلانے سے نظام متاثر ہوا، 70 لاکھ مسافر زیادہ اٹھائے اور 10 ارب اضافی کمائے۔مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ بھارت نے جو کچھ کیا وہ سوچی سمجھی سازش اور ان کا ایجنڈا ہے، یہ بہت پرخطر سال ہوگا، اس میں جنگ بھی ہوسکتی ہے، ہم جنگ کی طرف نہیں جانا چاہتے لیکن کشمیر پر ہونے والے ظلم پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتے، اگر جنگ مسلط کی گئی تو یہ آخری جنگ ہوگی۔وزیر ریلوے نے کہا کہ کشمیر کوئی مقبوضہ بیت المقدس نہیں ہے، مودی نے غیر دانشمندانہ کام کیا، بعض سیاست دان ایسی غلطی کرتے ہیں جس سے تاریخ بدل جاتی ہے، یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم ظلم پر خاموش رہیں، اس لیے بحیثیت ریلوے کے وزیر سمجھوتہ ایکسپریس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا اعلان کررہا ہے، یہ ٹرین ہفتے میں دو دن چلتی تھی، اس کے مسافروں کو ٹکٹس کی واپسی پر پورے پیسے دئیے جائیں گے۔شیخ رشید نے کہا کہ کشمیری اور پاکستان کا دل ایک ساتھ دھڑکتا ہے، میں کشمیر کو اندر سے جانتا ہوں، مودی کی سیاست لال چوک سری نگر میں ختم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر سے متعلق عالمی اداروں کی قرارداد کو تہہ و بالا کردیا،
بھارت نے شملہ معاہدے کو بھی تہہ و بالا کر دیا، بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے معاہدے کی بھی خلاف ورزی کی ہے، ہم مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے سفاکانہ، ظالمانہ، مجرمانہ اور غیر ذمہ دارانہ فیصلے کی مذمت کرتے ہیں۔دوسری جانب سمجھوتہ ایکسپریس واہگہ ریلوے اسٹیشن پر بھارت جانے کے لیے تیار تھی لیکن بھارتی حکام کی جانب سے ٹرین وصول کرنے کی کلیئرنس نہیں دی گئی۔دونوں ملکوں کے اسٹیشن ماسٹروں نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا جس پر بھارت نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا اور ٹرین صبح 8 بجے سے 109 مسافروں کو لے کر اسٹیشن پر کھڑی رہی۔



سپریم کورٹ کا اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار،کب تک کی مہلت دیدی ؟جانئے

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے منصوبے کی تکمیل کیلئے اگلے سال جنوری تک کی مہلت دے دی ۔ پیر کو سپریم کورٹ میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کیس کی سماعت جسٹس عظمت سعید شیخ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔
سیکرٹری ٹرانسپورٹ عدالت میں پیش ہوئے ،عدالت نے منصوبے کی تکمیل میں تاخیر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ پروجیکٹ کب مکمل ہوگا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے استفسار کیا کہ ابھی تک منصوبہ مکمل نہیں ہوا،کتنے پیسے

خرچ ہوچکے ہیں۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہاکہ 169 بلین روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ منصوبے میں تاخیر سے لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ کیا اضافی لاگت آپ ادا کریں گے۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہاکہ سپریم کورٹ ہر حال میں منصوبہ مکمل کروائی گی۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ یہ منصوبہ پچھلی حکومت نے شروع کیا تھا جو اکتوبر 2018 میں مکمل ہونا تھا۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہاکہ پروجیکٹ ڈائریکٹر سبطین فضل حلیم سے کام جاری رکھوانے یا انکا متبادل لانے کا کہا تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سبطین فضل حلیم شروع سے منصوبے کو دیکھ رہے ہیں۔سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے کہاکہ سبطین فضل حلیم کو توسیع دینے کیلئے سفارش کر دی گئی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سبطین صاحب کب تک ٹرین چل جائیگی۔ انہوںنے کہاکہ نومبر تک ٹرین چلانے کا بتایا گیا تھا۔ سبطین فضل حلیم نے میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل کیلئے جنوری 2020 تک وقت مانگ لیا۔ انہوںنے کہاکہ آزمائشی ٹرین چلانے سمیت دیگر تکنیکی جانچ کیلئے جنوری 2020 تک وقت دے دیں۔ عدالت نے میٹرو ٹرین منصوبے کی تکمیل کیلئے اگلے سال جنوری تک کی مہلت دے دی عدالت نے کہاکہ میٹرو ٹرین منصوبہ جنوری 2020 تک مکمل کیا جائے،سپریم کورٹ اورنج لائن منصوبے کی نگرانی خود کرے گی۔ بعد ازاں کیس کی سماعت گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد تک ملتوی کر دی گئی ۔



شیخ رشید کے وزیر ریلوے بننے کے بعد سے 79 ٹرین حادثات سب سے زیادہ جون میں20حادثے ، انسانی جانوں کیساتھ محکمہ کو کروڑوں کا نقصان

لاہور(سی پی پی) وزیر ریلوے شیخ رشید کے وزارت ریلوے کا قلمدان سنبھالنے کے بعد سے ریلوے ٹرین حادثات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے اور اب تک 79 حادثات ہوچکے ہیں۔اگست 2018 سے جولائی 2019 تک 79 ٹرین حادثے ہوچکے ہیں۔ سب سے زیادہ جون میں 20 حادثے ہوئے جس میں انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ محکمہ کو کروڑوں روپے کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثات کی سب سے بڑی وجہ ناتجربہ کار جنرل مینجر ریلوے آپریشن آفتاب اکبر کی اہم پوسٹ پر تعیناتی ہے۔ انہوں نے غلط حکمت عملی کی وجہ سے

دیگر اہم پوسٹوں پر بھی جونیئر اور ناتجربہ کار افسروں کو لگایا ہوا ہے جبکہ سینئر افسران کئی ماہ سے تقرری کے منتظر ہیں۔یکم جون کو لاہور یارڈ میں ریلیف ٹرین ڈی ریل ہوگئی۔ 3 جون کو عید اسپیشل ٹرین لالہ موسی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتر گئی۔ 5 جون کو فیصل آباد اسٹیشن کے قریب شاہ حسین ٹرین کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ 5 جون کو ہی کراچی ڈویژن میں کنٹینر ٹرین کو حادثہ ہوا اور تھل ایکسپریس ٹرین کی پانچ بوگیاں بھی کندھ کوٹ کے قریب پٹری سے اترگئیں۔6 جون کو قراقرم ایکسپریس ٹرین کی بوگیاں فیصل آباد اسٹیشن کے قریب پٹری سے اتری گئیں۔ 7جون کو اسلام آباد ایکسپریس ٹرین گجرات کے قریب موٹر سائیکل سے ٹکرا گئی۔ 8 جون کو کراچی ڈویژن میں بولان ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔15 جون کو سندھ ایکسپریس ٹرین سکھر یارڈ میں پٹری سے اترگئی۔ 16 جون کو مال بردار ٹرین روہڑی اسٹیشن کے قریب پٹری سے اترگئی۔ 18 جون کو ملتان ڈویژن میں ہڑپہ اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کی ڈائننگ کار کو آگ لگ گئی۔ 18 جون کو ہی کوئٹہ ڈویژن میں مال بردار ٹرین پٹری سے اترگئی۔ 19
جون کو کراچی ڈویژن میں رحمن بابا ایکسپریس ٹرین کی زد میں گاڑی آگئی جس میں انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔20 جون کو حیدرآباد اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین مال بردار ریل گاڑی سے ٹکراگئی جس کے نتیجے میں ٹرین ڈرائیور اور اسسٹنٹ ٹرین ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ 21 جون کو ہری پور کے قریب راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں کار آگئی۔ 22 جون کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے یارڈ میں کراچی جانے والی تیزگام کی بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔23 جون کو لانڈھی اسٹیشن کے قریب جناح ایکسپریس ٹرین کو حادثہ پیش آیا۔ 24 جون کو راولپنڈی ڈویژن میں کوہاٹ ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔ 27 جون کو بدر ایکسپریس مسکالر اسٹیشن کے قریب ٹریکٹر ٹرالی سے ٹکرا گئی۔ 28 جون کو فرید ایکسپریس اور دوسری ٹرین کے انجن میں تصادم ہوا اور 29 جون کو راولپنڈی ایکسپریس کی زد میں موٹر سائیکل آگئی۔



اکبر ایکسپریس ٹرین کو حادثے کی وجہ کیا بنی؟ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ریلوے ہیڈ کوارٹر حکام کو پیش

لاہور (آن لائن) صادق آبادکے قریبی ریلوے سٹیشن رحیم یار خان پر ہونے والے اکبر ایکسپریس ٹرین کے حادثے کے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ ریلوے ہیڈ کوارٹر کو پیش کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق رپورٹ میں حادثے کی وجہ کانٹا نہ بدلنا بتائی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اکبر ایکسپریس اپنی رفتار کے ساتھ آ رہی تھی کہ مین لائن اور لوپ لائن کے درمیان بروقت کانٹا نہ بدلنے سے اکبر ایکسپریس مسافر ٹرین اپنی پوری رفتار کے ساتھ لوپ لائن پر
پہلے سے کھڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی جس سے بارہ افراد جاں

بحق اور سات افراد زخمی ہو گئے۔ رپورٹ کے مطابق اکبر ایکسپریس کے لئے جائے حادثہ سے پیچھے ٹرین ڈرائیور کو گرین سگنل دیا گیا تھا۔ جس کی روشنی میں سٹیشن ماسٹر نے کانٹا تبدیل نہ کروایا اور ٹرین کورن تھرو کی اجازت دے دی۔ ذرائع کے مطابق ٹرین حادثے کی تفصیل تفصیلات کے لئے پاکستان ریلویز کے فیڈرل جنرل انسپکٹر اپنی ٹیم کے ہمراہ جائے حادثہ پر پہنچ چکے ہیں۔



ایک اور ٹرین الٹ گئی۔۔۔!!!

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈی جی خان ریلوے سٹیشن کےقریب مال گاڑی ٹریک سے نیچے اتر گئی۔عملہ نے فوری موقع پر پہنچ کر ٹریک کلیئرکرادیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ڈپو سے پتھر لوڈ کرکے ڈیرہ غازی خان ریلوے سٹیشن آنے والی مال گاڑی کی تین بوگیاں ٹریک سے نیچے اترگئیں۔ اس سلسلے میں ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مال گاڑی ڈپو

سےپتھر لوڈ کرکے ریلوے اسٹیشن پر آرہی تھی۔ریلوے ملازمین نےمال گاڑی کو ٹریک پر ڈالنے کا کام شروع کرکےٹریک کلیئر کردیا۔ مال گاڑی ریلوے ٹریک کمزور ہونے کے باعث ٹریک سے نیچے اتری۔واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ٹرینیں الٹنے کے کئی واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ جس میں متعدد افراد اپنی جان بھی گنوا چکے ہیں

The post ایک اور ٹرین الٹ گئی۔۔۔!!! appeared first on JavedCh.Com.

چینی کمپنی کو اورنج ٹرین کے انتظام و انصرام کا ٹھیکہ منسوخ جانتے ہیں وجہ کیا بنی؟وزیر اعلیٰ ہائوس نے تفصیلات جاری کردیں

لاہور( آن لائن ) وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اورنج لائن میٹرو ٹرین منصوبے میں ’بے قاعدگیوں‘ کے پیش نظرانتظام وانصرام کا ٹھیکہ منسوخ کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار پنجاب ماس ٹرانزٹ اٹھارٹی (پی ایم ٹی اے) کے سربراہ ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاؤس کے ذرائع نے انکشاف کیا کہ اورنج لائن میٹرو ٹرین کو
چلانے اور انتظامات سنبھالنے کے لیے چینی کمپنی کو تفویض کردہ تقریباً 60 ارب روپے کا ٹھیکہ قانونی اور تکنیکی بنیادیوں پر منسوخ کیا گیا۔چینی کمپنی کو مذکورہ ٹھیکہ 10 برس کے لیے دیا گیا تھا۔اس حوالے سے بتایا گیا پی ایم ٹی

اے کے سابق منیجنگ ڈائریکٹر سبطین فضل حلیم نے ٹھیکے کے دستاویزات تیار کروائے تھے اور6 ماہ قبل ہی ان کی مدت پوری ہوئی تھی۔بعدازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایت پر انہیں مزید توسیع نہیں دی گئی۔ذرائع نے انکشاف کیا کہ اورنج ٹرین کو چلانے اور انتظامات سنبھالنے سے متعلق ٹھیکے کے قوائد و ضوابط کو متعلقہ حکام سے منظور نہیں کرایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ چینی کمپنی کو منتخب کرنے کے بعد اس کی منظوری لے لی گئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ متعلقہ اتھارٹی کے مختلف محکموں اور اداروں نے ٹھیکے کے قانونی اور مالیاتی شعبوں کا جائزہ لیا اور پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پی پی آراے) نے گزشتہ ہفتے ٹھیکہ منسوخ کردیا۔ان کا کہنا تھا کہ پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کے ماتحت کمیٹی کے چیئرمین نے بھی ٹھیکہ تفویض کرنے کے عمل میں بعض مسائل کی جانب اشارہ کیا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ ’اورنج ٹرین منصوبے کے انتظام و انصرام چلانے کے لیے ٹھیکہ کی حد مدت 5 برس تھی لیکن چینی کمپنی کو 10 برس کا ٹھیکہ دے دیا گیا ۔
علاوہ ازیں آپریشن اخراجات بھی غیرمعمولی زیادہ تھے جبکہ پورا منصوبہ صوبائی حکومت کی ملکیت ہے، یہاں تک کہ ٹرین بھی پنجاب کی ملکیت ہے‘۔خیال رہے کہ پنجاب ماس ٹرانزٹ اٹھارٹی (پی ایم ٹی اے) کو از سرنو ترتیب دیا گیا جس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ، 2 اراکین قومی اسمبلی، 4 اراکین صوبائی اسمبلی، سیکریٹری فنانس اور ٹرانسپورٹ، پی ایند ڈی چیئرمین اور سابق ٹرانسپورٹ سیکریٹری شامل ہیں۔