Tag Archives: پر

وزیراعظم عمران خان واشنگٹن دورے پر کتنا خرچ آیا ؟ تفصیلات سامنے آگئیں

اسلام آباد (این این آئی)کس نے پاکستان کو مقروض بنایا اور کس نے ٹیکس کے پیسوں پر کتنی عیاشی کی ،چیف آرگنائزر سیف اللہ خان نیازی نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ پر اعداد و شمار جاری کردئیے ۔ زرداری اور نواز شریف کے دوروں کے اخراجات کا وزیراعظم عمران خان کے دوروں پر خرچ سے موازنہ ،واشنگٹن اور نیویارک کے دوروں کی الگ الگ تفصیلات جاری کردیں ۔
اتوار کو ایک بیان میں سیف اللہ نیازی نے بتایاکہ زرداری 2009 میں واشنگٹن گئے تو 7 لاکھ 52 ہزار 6 سو 68 ڈالرز کا خرچہ آیا، نواز شریف نے 2013 میں

واشنگٹن کا قصد کیا تو 5 لاکھ 49 ہزار 8 سو 53 ڈالرز خرچ ہوئے۔ انہوں نے بتایاکہ عمران خان 2019 میں بطور وزیر اعظم واشنگٹن گئے تو محض 67 ہزار 1 سو 80 ڈالرز میں دورہ مکمل ہوگیا، اسی طرح نیویارک کے سرکاری دوروں پر اٹھنے والے اخراجات میں بھی واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔سیف اللہ خان نیازی نے کہاکہ زرداری صاحب 2012 میں نیویارک یاترہ کیلئے گئے تو غریب قوم کے 13 لاکھ 96 ہزار 2 سو 1 ڈالرز خرچ کرآئے۔ انہوںنے کہاکہ نواز کو 2016 میں نیویارک جانا ہوا تو مقروض قوم کو11 لاکھ 13 ہزار 1 سو 42 ڈالرز کے خطیر اخراجات کا بوجھ برداشت کرنا پڑا۔سیف اللہ خان نیازی نے کہاکہ نون لیگ کے نام نہاد درویش وزیراعظم شاہد خاقان عباسی 2017 میں گئے اور 7 لاکھ 5 ہزار 19 ڈالرز خرچ کرآئے، وزیر اعظم عمران خان چند دنوں میں نیویارک تشریف لے جائیں گے تو اندازاً صرف 1 لاکھ 62 ہزار 5 سو 78 ڈالرز کے اخراجات اٹھیں گے۔سیف اللہ نیازی نے کہاکہ زرداری و نواز حکومتیں مسلسل قوم کی پشت پر قرضوں کا بوجھ بڑھاتی رہیں، دوسری جانب دونوں جماعتوں کی قیادت نہایت بے شرمی سے ٹیکس گزاروں کا پیسہ اپنی عیاشیوں پر لٹاتی رہی۔



باکسر محمد وسیم کامیابی حاصل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو بھرپور استقبال کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ نہ آیا ، ٹیکسی پر روانہ ہونا پڑ گیا

اسلام آباد(این این آئی)پاکستانی باکسر محمد وسیم دبئی میں منعقدہ پروفیشنل باؤٹ میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچے تو بھرپور استقبال کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ نہ آیا ، ٹیکسی پر روانہ ہونا پڑ گیا۔تفصیلات کے مطابق محمد وسیم نے دبئی میں منعقدہ پروفیشنل باؤٹ میں فلپائن کے باکسر کو پہلے ہی راؤنڈ میں ناک آؤٹ کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے اپنی کامیابی مقبوضہ کشمیر کے عوام کے نام کی تھی۔محمد وسیم کامیابی کے بعد وطن واپس آئے تو اسلام آباد ایئرپورٹ
پر ان کے استقبال کیلئے کوئی حکومتی نمائندہ ہی نہیں پہنچا اور محمد وسیم نجی

کمپنی کی ٹیکسی سروس پر روانہ ہوئے۔ایئرپورٹ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد وسیم نے کہا کہ میں نے وطن عزیز اور قوم کے لیے محنت کی ہے، دبئی میں مقابلے سے قبل افریقی مدمقابل سے بھی مقابلہ جیتا تھا، مزید مقابلے بھی جیت کر تاریخ رقم کروں گا اور اپنے ملک کا نام روشن کرتا رہوں گا، ٹاپ 5میں آکر ورلڈ ٹائٹل کے لیے مقابلہ کروں گا، پاکستان میں ورلڈ ٹائٹل میچ کے لیے کوشش کررہا ہوں۔



وزارت توانائی، پٹرولیم ڈویژن کی گیس پائپ لائن کے بین الاقوامی منصوبوں سے متعلق خبر وں پر وضاحت ،حقیقت کھل کر سامنے آگئی

اسلام آباد(آن لائن )وزارتِ توانائی، پٹرولیم ڈویژن نے گیس پائپ لائن کے بین الاقوامی منصوبوں اور ان میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق شائع ہونے والی خبر وں کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ وزاتِ توانائی و پیٹرولیم ڈویژن ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی گیس پائپ لائن منصوبوں پر قومی ذمہ داری پر عمل پیرا ہے۔
ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ اور نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویڑن) کی اس طرح کی کاوشوں کی واضح مثال ہیں۔جاری بیان کے مطابق  ٹاپی پروجیکٹ

میں رواں سال کے دوران کافی پیش رفت ہوئی ہے۔پائپ لائن تعمیراتی کام شروع کرنے کے لئے میزبان حکومت ترکمنستان نے ہیڈآف ٹرم ،TAPI پروجیکٹ کمپنی کے ساتھ دستخط کیے ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر پروجیکٹ کے پاکستان سیگمنٹ کے لئے گراؤنڈ بریکنگ تقریب رواں سال متوقع ہے۔یپروجیکٹ کمپنی (ٹی اے پی آئی پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ (ٹی پی سی ایل)) نے دبئی میں اپنا پراجیکٹ آفس قائم کیا ہے اوراسلام آباد میں برانچ آفس بھی کھولا ہے۔ منصوبے کی سرگرمیوں کو فنڈ دینے کے لئے ، حکومتِ پاکستان اس منصوبے میں باقاعدگی سے اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔  اس پروجیکٹ میں اکثریتی حصص یافتگان اور کنسورشیم لیڈر ہونے کے ناطے ٹی پی سی ایل کے انتظامی امور ترکمنستان دیکھ رہا ہے۔ یہ دعوی پریس کے ایک حصے میں شائع ہوا کہ پروجیکٹ کمپنی کوکسی غیر ملکی کمپنی کے ذریعے پاکستان کی نمائندگی کی جارہی ہے یا مالی غبن کا ارتکاب کیا جارہا ہے-یہ قطعی غلط ، بے بنیاد خبر ہے۔ ترکمانستان پروجیکٹ کو پیشہ ورانہ طور پر چاروں ممالک کے مابین معاہدوں کی شرائط کے عین مطابق نگرانی کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ ، ہندوستان ، افغانستان یا پاکستان سے کوئی بھی کمپنی میں اپنی متعلقہ کمپنیوں / ممالک کی نمائندگی نہیں کررہا ہے سوائے اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ، جہاں تینوں ممالک کی یکساں نمائندگی ہے۔ لہذا پاکستان منیجنگ ڈائریکٹر انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ذریعے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نمائندگی کرتا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن ٹاپی منصوبے کی منظم نگرانی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ذریعے کر رہی ہے۔ اس دعویٰ میں قطعی سچائی نہیں ہے کہ ایم ڈی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ملک سے فرار ہورہا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر سفر کیا ہے۔
وزارت کے اعلٰی عہدیداروں نے بھی منصوبے سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی پر مامور ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم ڈویژن کمپنی میں کسی بھی قسم کا مالی غبن ، بدعنوانی یا وزارت کے کسی بھی اعلی عہدیدار کے بیرون ملک سفر پابندی سے انکار کرتی ہے۔ اس طرح کی بے بنیاد اور منفی خبروں کی رپورٹنگ کو اگر جاری رکھا گیا تو اس سے ملک کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچے گا – اسطرح کی بے بنیاد خبروں سے توانائی کے اسٹریٹجک بین الاقوامی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچے گا اورلہذا حقائق مسخ کر کے پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔



پنجاب کابینہ کی تعداد تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ،جہازی سائز کی کابینہ کے باوجود کام کچھ نہیں ہو رہا ‘(ن)لیگ نے آئینہ دکھا دیا

لاہور( این این آئی)پنجاب کابینہ کی تعداد 46تک پہنچنے کے بعد تاریخ کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ۔رپورٹ کے مطابق ملک اسد کھوکھر کے بطور وزیر حلف اٹھانے کے بعد وزرا ء کی تعداد 36 ہوگئی ہے ۔ اس کے ساتھ کابینہ میں وزیر اعلیٰ کے پانچ خصوصی مشیر بھی شامل ہیں۔عون چوہدری کو ہٹائے جانے کے بعد آصف محمود کو مشیر تعینات کیا
گیا جبکہ ابھی وزیراعلیٰ کے ترجمان کی تعیناتی باقی ہے ۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی کے ترجمان بھی مشیر کے اختیارات استعمال کرتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) پنجاب کی سیکرٹری اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ہمارے

دور میں اڑتیس رکنی کابینہ پر اعتراض کیا جاتا تھا اور اب پنجاب میں جہازی سائز کی کابینہ ہے مگر کام کچھ نہیں ہو رہا ۔



106رنز پر آؤٹ ہونے کے باوجود بھارت انڈر19 ایشیا کپ کا چمپئن بن گیا

کولمبو(این این آئی) انڈر19 ایشیا کپ کے فائنل میں دفاعی چمپئن بھارت نے 106 رنز پر ڈھیر ہونے کے باوجود بنگلہ دیش کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 5 رنز سے شکست دیکر چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔سری لنکن دارالحکومت کولمبو میں کھیلے گئے فائنل میں باؤلرز کا راج رہا اور ابرآلود موسم میں دونوں ٹیموں کے بلے باز مجموعی طور پر صرف 207رنز بنا سکے۔بھارت کی ٹیم نے فائنل میچ میں ٹاس جیت کر پہلے
بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو تباہ کن ثابت ہوا اور صرف 8 رنز پر اس کے تین ابتدائی بلے باز پویلین لوٹ چکے

تھے۔اس موقع پر کپتان دھروو جوریل نے ششوات راوت کے ساتھ مل کر میچ کی سب سے بڑی 45رنز کی شراکت قائم کی لیکن اس شراکت کے اختتام کے ساتھ ہی ایک مرتبہ پھر بھارتی ٹیم کی وکٹیں گرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔دھروو 33 اور ششوات 19 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے اور ایک موقع پر بھارتی ٹیم 62 رنز پر 7 وکٹیں گنوا چکی تھی لیکن اس مرحلے پر کرن لال ڈٹ گئے۔انہوں نے 43 گیندوں پر 37 رنز کی جارحانہ اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کی سنچری مکمل کرائی لیکن اس کے باوجود بھارتی ٹیم 33ویں اوور میں 106رنز پر ڈھیر ہو گئی۔بنگلہ دیش کی جانب سے شمیم حسین اور مریتن جوئے چوہدری نے تین، تین وکٹیں لیں۔بھارتی ٹیم کے 8 کھلاڑی ڈبل فیگر میں بھی داخل نہ ہو سکے۔ہدف کے تعاقب میں بنگلہ دیشی ٹیم بھی صرف 16رنز پر 4 وکٹیں گنوا بیٹھی جس کے بعد اکبر علی اور شہادت حسین نے مل کر اسکور 40 تک پہنچایا لیکن پھر شہادت حسین کے بعد شمیم حسین بھی پویلین لوٹ گئے۔مریتن جوئے چوہدری اور کپتان اکبر علی نے 27رنز کی شراکت قائم کر کے اسکور کو 78 تک پہنچایا ہی تھا کہ دونوں بلے باز تین گیندوں کے فرق سے پویلین لوٹ گئے۔لو اسکورنگ میچ میں تنظیم حسن ساکب اور راکب الحسن نے نویں وکٹ کے لیے 23 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز پر پہنچا دیا لیکن انکولیکر نے ایک ہی اوور میں
دو وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو فتح سے ہمکنار کراتے ہوئے انڈر19 چمپئن بنوا دیا۔بنگلہ دیش کی پوری ٹیم 101 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی، کپتان اکبر 21 اور کریتن جوئے 21 رنز کے ساتھ سب سے نمایاں بلے باز رہے۔بھارت کی جانب سے اتھروا انکولیکر نے پانچ وکٹیں لیں اور میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز لے اڑے۔



مریم نواز سمیت تمام قیدیوں پر گھر سے کھانا منگوانے پرپابندی عائد

لاہور(سی پی پی)نیب لاہور نے مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سمیت تمام قیدیوں پر گھر سے کھانا منگوانے کی پابندی عائد کردی ہے،گزشتہ روز مریم نواز سمیت متعدد قیدیوں کے گھروں سے لایا جانے والا کھانا واپس بھجوا دیا گیا۔ نیب ذرائع نے بتایا کہ نیب کے قیدیوں کو ایس او پیز کے تحت میس
سے کھانا دیا جاتا۔اسی میس سے کھانا ہم بھی کھاتے ہیں اور دیگر قیدیوں کو بھی یہیں سے کھانا فراہم کیا جاتا ہے۔ ذرائع نے بتایا نیب قواعد و ضوابط کے تحت کسی کو گھر سے کھانا منگوانے کی اجازت نہیں، جو کھانا

قیدیوں فراہم کیا جاتا ہے وہ حفظان صحت کے اصولوں کے عین مطابق تیار کیا جاتا ہے۔



 ملک کے بعض مقامات پر آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان،محکمہ موسمیات نے زبردست خبر سنادی

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد سمیت ملک کے بعض مقامات پر آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران بارش کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق ہفتہ کے روز ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہیگا تاہم مالاکنڈ، ہزارہ، مردان،
پشاور، کوہاٹ، راولپنڈی، گوجرانوالہ، لاہور، سرگودھا  ڈویژن، اسلام آباد، کشمیر اور گلگت بلتستان میں چند مقامات پر تیز ہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان ہے۔گزشتہ روز ملک کے بیشترعلاقوں میں موسم گرم اور مرطوب



صارفین کی معلومات کے قوانین پرعملدرآمد،10 بینکوں پر 80 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد،سب سے زیادہ کس بینک پر جرمانہ عائد کیاگیا؟تفصیلات جاری

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اینٹی منی لانڈرنگ، صارفین کی معلومات اور فارن ایکس چینج کے قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے پر 10 بینکوں پر 80 کروڑ روپے سے زائد کے جرمانے عائد کر دیے ہیں.اسٹیٹ بینک نے جولائی 2019 سے کمرشل بینکوں کے خلاف قانون کی خلاف ورزی پر جانچ کے بعد ایکشن لیا ہے، مرکزی بینک کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 10 بینکوں کے خلاف جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور مجموعی طور پر80کروڑ51لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔مرکزی بینک کی جانب
سے جاری کردہ فہرست کے مطابق 32

کروڑ روپے کا سب سے بھاری جرمانہ حبیب بینک پر عائد کیا گیا ہے، ایم سی بی بینک پر 15 کروڑ 91 روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے جبکہ دبئی اسلامک بینک پر 7 کروڑ 79 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے بینکوں کے خلاف تادیبی کارروائی اور جرمانوں کی تفصیلات مرکزی بینک کی ویب سائٹ پر جاری کرنا شروع کر دی ہے، یہ سلسلہ نئے مالی سال کے آغاز سے جاری ہے، اسٹیٹ بینک کے مطابق اس اقدام کا مقصد بینکاری نظام میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔



مجھ سے معیشت پر سوال کب کیا جائے؟ 5 سال بعد معیشت کہاں ہو گی؟ وزیراعظم نے قوم کوبتا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، یہ بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں ماضی کی طرح کوئی بزنس ایمپائر نہیں بنا رہا،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے کیونکہ میگا کرمنل کیسزمیں جس طرح لوگ جیلوں میں ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔
انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ 13 مہینوں میں وزیراعظم یا کسی وزیر کے خلاف کرپشن کیس نہیں آیا یہی نیا پاکستان ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ

جب وزارت عظمی ٰ کا منصب سنبھالا تو پاکستان پر 90.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہم نے 70فیصد کمی کردی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے برآمدات بڑھائی ہیں اور درآمدات کم کی ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی چالیس فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے حاصل ہوتی ہے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سٹیل مل آئندہ چار ماہ میں کام کرنا شروع کر دے گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تو تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا وقت پانچ سال بعد کا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان میں معیشت کو درست کیا جا رہا ہے، وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکنامی ہو گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ آخری پیکج ہو گا، ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات میں کمی اور ریونیو بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تواختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا اورایٹمی جنگ کے نتائج صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلیں گے جو بہت بھیانک ہونگے۔وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا
کیونکہ ہم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کامعاملہ اٹھایاہے تاکہ جنگ سے بچا سکے لیکن ہندوستان نے پاکستان یا آزاد کشمیر میں کوئی جارحیت کی تو اسکا منہ توڑ جواب دیں گیاورہندوستان کو پتہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جو خون کے آخری قطرے تک لڑے گی انہوں نے کہا کہ جب بھی دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو اختتام اسکا بھیانک ہوگا اور ہمیں سنگین نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا اور اس ایٹمی جنگ کے نتائج پوری دنیامیں پھیلیں گے،
انہوں نے کہا کہ مودی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور وہ ایک ہٹلر کا کردار ادا کررہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں الیکشن کے دوران ہی ہمیں اندازا ہوگیا تھا کہ مودی ایک بار پھر برسراقتدار آئیں گے اور ہمیں یہ تشویش تھی کہ بی جے پی کی کامیابی سے ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات کشید ہ ہوں گے اور عین مطابق وہی حالات چل رہے ہیں،پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور ہم اس کوشش میں کامیاب بھی رہیں ہیں،مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مابین تمام معاملات پر اتفاق ہو جاتا ہے جب کشمیر کی بات آتی ہے تو بھارت بھاگ جاتا ہے،
ہم نے مسئلہ کشمیر کے ایشو کو ہر فورم پر کامیابی سے اٹھایا ہے اور بین الاقوامی ممالک نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے،اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں نے مسئلہ کشمیر کے حل لئے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے، مسئلے کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قرار داد موجود ہے،دنیا کے تمام اقوام کو چاہیے کہ وہ اس قرار داد پر عملدرآمد کرائیں،عمران خان نے کہا کہ واشنگٹن میں بین الاقوامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا،میری تجویز ہے کہ امریکہ،روس اور چین مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،اس حوالے سے ان ممالک کے سربراہوں سے بات کر چکا ہوں اور خوشی ہے کہ امریکہ،چین اور روس نے مسئلہ کے حل کیلئے ہماری تجویز پر کی مکمل حمایت کی ہے جس کا میں ان کا مشکور ہوں۔

موضوعات:

loading…



ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں،بہتری لانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انتباہ کردیا

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،ہمارے پاس بہترین ججزکام کررہے ہیں مگرتاریخ دان بتائیں گے ہمارے ججز فیصلے کرتے ہوئے معیار پریاتعداد پر یقین رکھتے تھے،
جب میں نے اپنی وکالت شروع کی تب ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے،میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم

ظفر جیسے بنو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں معروف قانون دان ایس ایم ظفرکی کتاب ”ہسٹری  آف پاکستان ری انٹرپریٹڈ“کی تقریب رونمائی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی ظفر، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد،سابقہ سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد خانسمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے اپنے انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،تاریخ دان ہی ہمارے موجودہ دور کے بارے میں بتائیں گے،میرا عہدہ موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمارے معاشرے میں بہترین وکلاء موجود ہیں،مگرتاریخ دان بتائیں گے کہ آج کے وکلاء بہترین دلائل دیتے تھے،ان کاانداز بیاں اچھا تھایا وہ ہاتھ سے دلائل دینا جانتے تھے۔اپنے رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا،اسی فارمولے کے تحت پاکستانی عدلیہ نے مقدمات نمٹانے کا ریکارڈ قائم کیا۔
خصوصی فوجداری ٹرائل عدالتوں نے 137دنوں میں 36000 ٹرائل نمٹادئیے گئے،نئے قوانین، اضافی اخراجات، موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی اہداف مکمل کرنا خوش آئند ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیے قلمبند کیا ہو گا۔ہمارے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھا رہا ہے، جب میں نے اپنی وکالت شروع کی اس وقت ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔ میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔
ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے، یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلے دیتے ہیں، مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایس ایم ظفر اور میرے سسر آپس میں دوست تھے،میرے سسر ہمیشہ مجھ سے ایس ایم ظفر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ایس ایم ظفر صاحب نے مجھ سے اس کتاب کے بارے میں میرے نظریات پوچھے،مجھے اس کتاب کے بارے بہت کچھ لکھنا تھا لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ہم پاکستان کی مختلف تواریخ پڑھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس مختلف کتابیں ہیں،اس کتاب کے پہلے حصے میں تمام حقائق بیان ہیں۔تقریب سے دیگر نے بھی خطاب کیا۔

موضوعات:

loading…