Tag Archives: کر

حریت قائدین کی جان کو شدید خطرات، مسئلہ کشمیر خطے میں ٹائم بم کی صورت اختیار کر گیا، مشال ملک نے بھارت کو وارننگ دیدی

اسلام آباد (این این آئی)حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ کشمیر کی صورتحال دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے، حریت قائدین کو کچھ ہوا تو خمیازہ بھارت کو بھگتنا پڑے گا۔مصری وفد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشال ملک نے کہا کہ کشمیریوں نے ماہ محرم کو کربلا کی طرح گزارا، یاسین ملک کی
صحت دن بہ دن گرتی جارہی ہے اور اْن کی نظر بندی کو 7 ماہ ہوگئے۔مشال ملک نے کہاکہ حریت قائدین کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں، اگر کشمیری قائدین کو کچھ ہوا تو اس کا خمیازہ بھارت کو

بھگتنا پڑے گا۔ اْن کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر خطے میں ٹائم بم کی صورت موجودہے، اس کے حل میں جتنی تاخیر ہوگی خطہ اتنے دن خطرات میں گہرا رہے گا۔



وزارت توانائی، پٹرولیم ڈویژن کی گیس پائپ لائن کے بین الاقوامی منصوبوں سے متعلق خبر وں پر وضاحت ،حقیقت کھل کر سامنے آگئی

اسلام آباد(آن لائن )وزارتِ توانائی، پٹرولیم ڈویژن نے گیس پائپ لائن کے بین الاقوامی منصوبوں اور ان میں ہونے والی پیشرفت سے متعلق شائع ہونے والی خبر وں کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ وزاتِ توانائی و پیٹرولیم ڈویژن ملکی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے بین الاقوامی گیس پائپ لائن منصوبوں پر قومی ذمہ داری پر عمل پیرا ہے۔
ترکمانستان ، افغانستان ، پاکستان ، بھارت گیس پائپ لائن منصوبہ اور نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن پروجیکٹ وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویڑن) کی اس طرح کی کاوشوں کی واضح مثال ہیں۔جاری بیان کے مطابق  ٹاپی پروجیکٹ

میں رواں سال کے دوران کافی پیش رفت ہوئی ہے۔پائپ لائن تعمیراتی کام شروع کرنے کے لئے میزبان حکومت ترکمنستان نے ہیڈآف ٹرم ،TAPI پروجیکٹ کمپنی کے ساتھ دستخط کیے ہیں۔ اسی کے پیشِ نظر پروجیکٹ کے پاکستان سیگمنٹ کے لئے گراؤنڈ بریکنگ تقریب رواں سال متوقع ہے۔یپروجیکٹ کمپنی (ٹی اے پی آئی پائپ لائن کمپنی لمیٹڈ (ٹی پی سی ایل)) نے دبئی میں اپنا پراجیکٹ آفس قائم کیا ہے اوراسلام آباد میں برانچ آفس بھی کھولا ہے۔ منصوبے کی سرگرمیوں کو فنڈ دینے کے لئے ، حکومتِ پاکستان اس منصوبے میں باقاعدگی سے اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔  اس پروجیکٹ میں اکثریتی حصص یافتگان اور کنسورشیم لیڈر ہونے کے ناطے ٹی پی سی ایل کے انتظامی امور ترکمنستان دیکھ رہا ہے۔ یہ دعوی پریس کے ایک حصے میں شائع ہوا کہ پروجیکٹ کمپنی کوکسی غیر ملکی کمپنی کے ذریعے پاکستان کی نمائندگی کی جارہی ہے یا مالی غبن کا ارتکاب کیا جارہا ہے-یہ قطعی غلط ، بے بنیاد خبر ہے۔ ترکمانستان پروجیکٹ کو پیشہ ورانہ طور پر چاروں ممالک کے مابین معاہدوں کی شرائط کے عین مطابق نگرانی کر رہا ہے۔
مزید یہ کہ ، ہندوستان ، افغانستان یا پاکستان سے کوئی بھی کمپنی میں اپنی متعلقہ کمپنیوں / ممالک کی نمائندگی نہیں کررہا ہے سوائے اس کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ، جہاں تینوں ممالک کی یکساں نمائندگی ہے۔ لہذا پاکستان منیجنگ ڈائریکٹر انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ذریعے کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نمائندگی کرتا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن ٹاپی منصوبے کی منظم نگرانی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ذریعے کر رہی ہے۔ اس دعویٰ میں قطعی سچائی نہیں ہے کہ ایم ڈی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹم کے ملک سے فرار ہورہا ہے اور نہ ہی اس نے کبھی مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر سفر کیا ہے۔
وزارت کے اعلٰی عہدیداروں نے بھی منصوبے سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی پر مامور ہیں۔بیان میں کہا گیا ہے کہ پٹرولیم ڈویژن کمپنی میں کسی بھی قسم کا مالی غبن ، بدعنوانی یا وزارت کے کسی بھی اعلی عہدیدار کے بیرون ملک سفر پابندی سے انکار کرتی ہے۔ اس طرح کی بے بنیاد اور منفی خبروں کی رپورٹنگ کو اگر جاری رکھا گیا تو اس سے ملک کی ساکھ کو بری طرح نقصان پہنچے گا – اسطرح کی بے بنیاد خبروں سے توانائی کے اسٹریٹجک بین الاقوامی منصوبوں کو شدید نقصان پہنچے گا اورلہذا حقائق مسخ کر کے پیش کرنے سے گریز کیا جائے۔



محمد بن سلمان کا 2ہزارپاکستانیوں کی رہائی کا اعلان مگران میں سے کچھ لوگوں کو سزائے موت سنا کر عملدرآمد بھی شروع ،تہلکہ خیز دعویٰ منظرعام پرآگیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی ڈائریکٹر سارہ بلال نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے دورہ پاکستان کے دوران دو ہزار قیدیوں کو رہا کرنے کے وعدے پر تاحال عمل نہیں کیا گیا بلکہ ان میں سے کچھ افراد کو سزائے موت سنا کر اس پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان کے
مطابق دنیا بھرکے مختلف ممالک کی جیلوں میں قید پاکستانیوں کی تعداد 11 ہزار سے زائد ہے جبکہ 7 ہزار کے قریب صرف عرب ممالک میں قید ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں تین ہزار

چار سو پاکستانی قید ہیں، جن میں سے اس سال تاحال ایک خاتون سمیت 26 افراد کو سزائے موت دی جا چکی ۔



پاک بھارت ڈیوس کپ ٹائی کے مقابلے کب ہوں گے؟ نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ ٹائی کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور شیڈول میں تبدیلی کے بعد بھی پاکستان ہی مقابلوں کی میزبانی کرے گا۔ایشین اوشیانا گروپ ون کے ٹائی مقابلے اسلام آباد کے پاکستان اسپورٹس کمپلیکس میں 14 اور 15 ستمبر کو منعقد ہونا تھے، جس میں شرکت کے لیے جولائی میں بھارت نے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کی تصدیق بھی کی تھی۔
لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان موجودہ کشیدہ تعلقات اور سیکیورٹی صورتحال کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان ڈیوس کپ ٹینس ٹائی ملتوی کردیا گیا تھا۔تاہم اب

ڈیوس کپ ٹائی کے لیے نئی تاریخوں کا اعلان کردیا گیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان 29 یا 30نومبر کو مقابلے ہوں گے تاہم اس سے قبل ایک مرتبہ سیکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا۔آل انڈیا ٹینس ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیوس کپ ٹائی 29 سے 30 نومبر یا 30 سے یکم دسمبر تک اسلام آباد میں منعقد ہوں گے۔بیان میں واضح کیا گیا کہ اسلام آباد میں ڈیوس کپ کے انعقاد سے قبل 4نومبر کو سیکیورٹی کا جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد اس بات کا فیصلہ ہو گا کہ یہ مقابلے منعقد ہوں گے یا پھر اسے نیوٹرل مقام پر منتقل کردیا جائے۔اس سلسلے میں انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے پاکستان کو 19نومبر تک کا وقت دیا ہے تاکہ وہ حتمی تاریخ کے حوالے سے کھیل کی عالمی فیڈریشن کو آگاہ کر سکے۔یاد رہے کہ ملک میں سیکیورٹی خدشات اور غیرملکی ٹیموں کی جانب سے دورہ پاکستان سے انکار کے سبب پاکستان ایک دہائی سے زائد عرصے سے اپنے ڈیوس کپ ٹائی نیوٹرل مقام پر کھیلنے پر مجبور تھا۔اس دوران ایران 2017 میں ڈیوس کپ ٹائی کے لیے 12 سال بعد پاکستان آنے والی پہلی ٹیم بنی تھی جبکہ ہانک کانگ نے دورہ پاکستان سے انکار کردیا تھا جس کے سبب انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن نے ان کی تنزلی کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔



عمران خان کا دورہ امریکہ کیلئے خصوصی طیارہ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ،ماضی میں نوازشریف اورزرداری کے دوروں کے مقابلے میں کل خرچہ کتنا آئیگا؟پڑھ کر آپ کو بھی یقین نہیں آئیگا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم عمران خان کادورہ امریکا کیلئے اس بار بھی خصوصی طیارہ استعمال نہ کرنے کا فیصلہ ۔نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے اس بار بھی دورہ امریکہ کیلئے خصوصی طیارہ استعمال نہ کرنے کافیصلہ کیا ہے، وزیراعظم نجی کمرشل پرواز سے امریکا کیلئے روانہ ہوں گے ،وزیراعظم کے دورہ امریکا پر صرف1 لاکھ 62 ہزار ڈالر خرچ ہوں گے ۔یاد رہے ماضی میں سربراہان مملکت کے دوروں پر
کروڑوں روپے خرچ ہوتے تھے ۔سابق صدر آصف زداری نے ستمبر2012 میں نیویارک کا دورہ کیا،ان کےاس دورے پر 13 لاکھ 9 ہزار620 ڈالر خرچ ہوئے جبکہ سابق

وزیراعظم نوازشریف نے 2016 میں دورہ امریکا پر11 لاکھ 13 ہزار142 ڈالر خرچ ہوئے تھے۔لیکن وزیراعظم عمران خان کے دورہ نیویارک پر ملکی حالیہ تاریخ کا سب سے کم بجٹ خرچ ہو گا،اس سے قبل بھی وزیراعظم کے دورہ امریکا پر 67 ہزار ڈالر خرچ ہوئے تھے ۔



دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا،بھارت افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گرد کارروائی کرتا ہے، عمران خان کا انٹرویو،کھری کھری سنادیں

ا سلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ بھارت کے اقدامات کی وجہ سے پاکستان اور بھارت جنگ کے دہانے پر ہیں، اگر دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا،کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے، اقوام متحدہ کی اس حوالے سے متعدد قراردادیں موجود ہیں، عالمی برادری کردارادا کرے،ہمیں بھارت سے لاتعداد شکایتیں ہیں،
یہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں دہشت گرد کارروائی کرتا،پاکستان پر افغانستان میں امریکا کی ناکامی کا الزام ناانصافی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے

کو دئیے گئے اپنے انٹرویو میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھا دیا ہے،پاکستان ایسی قوم ہے جو اپنی بقا کیلئے آخری دم تک لڑے گی۔انہوں نے کہاکہ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر ہیں اگر یہ طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا، تاہم ایٹمی جنگ سے بچنے کے لیے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا۔انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو امریکا اور روس کے درمیان 1962 کے کیوبن میزائل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بہت کشیدہ ہے، اور اگر ان دونوں ممالک کے درمیان جنگ ہوئی تو اس کے اثرات برصغیر کے باہر بھی محسوس کیے جاسکیں گے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ بھارت کشمیر کو اپنا اندرونی معاملہ کہتا ہے تو اس پر عالمی برادری کس طرح بات کریگی جس کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر اقوام متحدہ میں تسلیم شدہ ایک متنازع علاقہ ہے، اور اقوام متحدہ کی اس حوالے سے متعدد قراردادیں موجود ہیں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یہاں صرف بیانات دینے کے بجائے اسے حل کرنے کا عملی مظاہرہ کرے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں اس معاملے کو اقوام متحدہ میں اٹھاؤں گا اور وہاں جاکر یہ کہوں گا کہ یہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ اس معاملے کو حل کروائے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بھارت میں اس وقت آر ایس ایس نظریے کی حکومت ہے جو نازی جرمنی کے نظریے سے متاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کے کیمپ میں ایسے دہشت گرد تیار ہورہے ہیں جو اپنے تشدد سے مسلمانوں کو خوفزدہ کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف کشمیروں بلکہ بھارت اور پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی طرف سے اس کا رد عمل آئیگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ری ایکشن اس لیے آئیگا کیونکہ مسلمان پہلے ہی روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے مظالم دیکھ چکے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ اب عمل کا وقت ہے، کیونکہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ عمل نہ کرنا کوئی آپشن نہیں ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی کس طرح مدد کر رہا تو جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس وقت کچھ نہیں کر سکتا، بھارت نے تمام سرحدیں بند کی ہوئی ہیں، پاکستان عالمی برادری کو معاملے آگاہ کر رہا ہے اور اسے ہر فورم پر اٹھارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ دوطرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوسکتا، بات اس سے آگے نکل چکی ہے، اس کے حل کا راستہ صرف امریکا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ساتھ روسی صدر ویلادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ وہ بڑی شخصیات ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔مسئلہ کشمیر کا حل بتاتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ اس کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ اقوام متحدہ کا کشمیری عوام کے ساتھ کیا جانے والا وعدہ ہے، جو انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے متعلق کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نریندر مودی نے بہت بڑی غلطی کردی کیونکہ یہاں سے آگے جانے اور پیچھے جانے میں مودی کا بہت بڑا نقصان ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس فروری میں جب پلوامہ حملہ ہوا تو اس کے بعد بھارت نے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی جبکہ پاکستان انہیں مسلسلہ کہتا رہا کہ اگر آپ کے پاس کسی پاکستانی کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے تو ہمیں دیں ہم کارروائی کریں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے ایک مرتبہ پھر دراندازی کی کوشش کی تو بھارتی طیارے کو مار گرایا اور جب پاکستان نے اس گرفتار بھارتی پائلٹ کو خیر سگالی کے جذبے کے تحت واپس کیا تو انہوں نے اسے اپنی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان ان سے ڈر گیا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ بھارت یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان مقبوضہ کشمیر میں صورتحال خراب کرنے کا ذمہ دار ہے تو وزیراعظم نے جواب دیا کہ
پاکستان ایسی کسی کارروائی میں ملوث نہیں ہے، ہم نے نریندر مودی کو یہ پیشکش کی کہ وہ اپنی انٹیلی جنس اور کسی بھی مبصر کے ذریعے اس کا پتہ لگالیں۔اپنی بات کی وضاحت دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں پاکستان، سویت یونین کے خلاف جنگ میں امریکا اور افغانستان کا سب سے بڑا اتحادی تھا۔انہوں نے کہا کہ اس عرصے میں یہاں مجاہدین کو تربیت دی گئی، اور جب سویت یونین یہاں سے چلا گیا تو ان لوگوں کو پاکستان کے ساتھ چھوڑ دیا گیا، تاہم اب تحریک انصاف کی حکومت وہ پہلی حکومت ہے جس نے عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے اقدامات اٹھائے۔وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں بھارت سے لاتعداد شکایتیں ہیں، یہ افغانستان میں بیٹھ کر پاکستان کے قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں دہشت گرد کارروائی کرتا ہے،
ہم نے سب سے پہلے بیٹھ کر دہشت گردی پر بات کرنے کا کہا ہے۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا نائن الیون کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں تھا، پاکستان دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں شامل ہوا اور جب امریکا وہاں کامیاب نہ ہوسکا تو اس کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا جارہا ہے جو سراسر ناانصافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ افغانستان کی فطرت کو سمجھ نہیں سکی، افغان کسی بھی غیر ملکی کو برداشت نہیں کرتے، سویت نے وہاں 9 سال جنگ لڑی لیکن 50 ہزار فوجی مارے جانے کے باوجود وہ اسے ’فتح‘ نہ کرسکے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کی حمایت کرتا ہے تو اس کے جواب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ انخلا ایک منصوبہ بندی کے ساتھ اور معاہدے کے تحت ہونا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ گزشتہ 4 دہائیوں
سے افغانستان کے لوگ خون خرابہ دیکھ رہے ہیں، وہ اب امن چاہتے ہیں اور ہم سب دعا گو ہیں کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امن عمل دوبارہ بحال ہوجائے۔جب وزیراعظم سے امریکا کے سابق سیکریٹری دفاع جیمز میٹس کے پاکستان کو سب سے خطرناک ملک قرار دینے سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اگر پاکستان امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل نہ ہوتا تو وہ آج دنیا کا خطرناک ملک نہ ہوتا۔انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ میں ایک مرتبہ پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں پاکستان کے امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے خلاف تھا۔انہوں نے کہاکہ جب پاکستان اس جنگ میں شامل ہوگیا تو سویت یونین کے خلاف جنگ میں حصے لینے والے پاکستان کے خلاف ہوگئے۔روس اور پاکستان کے تعلقات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دنیا اب تبدیل ہوچکی ہے، اس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی امید ہے۔

موضوعات:

loading…



کشمیر کے معاملے پر پاکستان نے بہت دیر کر دی، اب کیا ہوگا؟سابق وزیر خارجہ حسین ہارون کے انتہائی تشویشناک انکشافات

کراچی(این این آئی)پاکستان کے سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر بہت دیر کر دی ہے پاکستان کو فوری ردعمل دینا چاہیے تھا۔ایک انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا پاکستان کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں تھے۔
انہوں اے کہاکہ بھارتی انتخابات کے موقع پر عمران خان کے مودی کی حمایت میں بیان ان کی غلط فہمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کا سفیر بننے ک اعلان کر رکھا ہے تاہم ہمیں اپنی

حکمت عمل پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں۔حسین ہارون نے کہا کہ بھارتی عزائم کافی عرصے سے نظر آ رہے تھے اور ان کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ وہ تیاری کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے پاکستان کی کوئی تیار نظر نہیں آ رہی تھی اور پاکستان اب بھی تیار نظر نہیں آ رہا، حکومت پہلے یہ تو طے کر لے کہ اس نے کرنا کیا ہے؟سابق وزیر نے کہا کہ پاکستان کو طالبان امریکہ مذاکرات میں کردار ادا کرنے سے قبل یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ وہ پہلے آپ پر سے ایف اے ٹی ایف کی سختیوں کو ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا گلا پھندے میں آیا ہوا ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ معاملے پر سخت اقدامات کرے تاکہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہ رہے۔حسین ہارون نے کہا کہ دنیا عمران خان کو پہلے سے جانتی ہے اور وہ یورپ اور امریکی میں جانا پہچانا برانڈ ہے تاہم کیا انہوں نے اپنی شہرت کا فائدہ اٹھایا؟ عمران خان اگر سفیر بن کر نکل پڑیں گے تو پاکستان کو کون چلائے گا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی جارحیت کا فوری جواب دینا چاہیے تھا لیکن پاکستان نے بہت دیر کر دی اور جوں جوں معاملے میں تاخیر ہوتی رہے گی معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔



دورہ پاکستان میں سکیورٹی کا خطرہ نہیں بلکہ ہماری توجہ کس چیز پر ہے ؟سری لنکن کپتان نے واضح کر دیا

لاہور(آن لائن) سری لنکن ون ڈے کپتان لہیرو تھریمانے نے کہا ہے کہ پاکستان میں ٹو ر کے دوران میری توجہ کا مرکز سکیورٹی نہیں بلکہ صرف کرکٹ ہے ۔ہفتہ کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک بیان میں سری لنکن ون ڈے کرکٹ ٹیم کے کپتان لہیروتھریمانے نے کہا کہ کرکٹ سری لنکا نے پاکستان میں
حفاظتی انتظامات سے آگاہ کردیاہے‘جس پر مکمل اطمینان ہے‘میری ساری توجہ کھیل پر مرکوز ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاکستان جانے پر فیملی کو کوئی اعتراض نہیں کیونکہ ہم سب اپنے ملک کی نمائندگی کر رہے ہیں ‘10کھلاڑیوں کا دورے سے

انکار ان کا ذاتی معاملہ ہے ‘جس کا احترام کرنا چاہئے۔



باکسر محمد وسیم نے فلپائنی باکسر کے خلاف جیت کشمیریوں کے نام کر دی

اسلام آباد /دبئی (این این آئی)پاکستانی باکسر محمد وسیم نے فلپائنی باکسر کے خلاف جیت کشمیریوں کے نام کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے بین الاقوامی شہرت یافتہ باکسر محمد وسیم نے گزشتہ روز دبئی میں منعقد کئے گئے مقابلے میں فلپائنی باکسر کونراڈو ٹینامور کو پہلے ہی راؤنڈ میں محض 60 سیکنڈز کے اندر ناک آؤٹ کردیا،محمد وسیم نے اس تاریخی جیت کو کشمیریوں کے نام کیا ہے، وہ اب تک 10 پروفیشنل فائٹس میں سے 9 میں کامیاب ہوئے ہیں اور انہوں نے 7 بار حریف باکسر کو ناک آؤٹ بھی کیا۔کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے

30 سالہ
محمد وسیم نے 2016 میں فلپائن کے جیٹر اولیوا کوشکست دے کر ورلڈ باکسنگ اسوسی ایشن (ڈبلیو بی اے) ورلڈ سلورٹائٹل جیتا تھا۔محمد وسیم پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کی پروازپی کے234 سے (آج) اتوار کی صبح 9 بج کر40 منٹ پربے نظیرانٹرنیشنل آئیرپورٹ پہنچیں گے۔میچ سے قبل گفتگو کرتے ہوئے محمد وسیم نے کہا تھا کہ میری دبئی میں ایک بڑی فائٹ ہونے جا رہی ہے، جس کے لیے چھ ماہ انگلینڈ میں سخت ٹریننگ کی ہے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ یہ فائٹ میں پاکستان کیلئے جیتنا چاہتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کہا کہ وہ اپنی جیت کو پاکستانی عوام اور کشمیریوں کے نام کرتے ہیں۔



پشاورمیں بی آر ٹی منصوبہ مکمل نہ ہوسکا لیکن پراجیکٹ پر کام کرنے والے کتنے ملازمین کو فارغ کردیا گیا؟وجہ جان کر آپ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائینگے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پی ڈی اے نے بی آر ٹی منصوبے کے 69 ملازمین کی ملازمتیں ختم کرکے ان کو فارغ کردیا۔پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کے 69 ملازمین کو فارغ کردیا گیا ہے، ان کی ملازمتیں اوور ہیڈ چارجر
کی مد میں فنڈز ختم ہونے کے بعد ختم کی گئی ہیں۔اعلامیہ کے مطابق فارغ ہونے والے ملازمین میں سپر وائزر، اسسٹنٹ سپروائزرز ، ڈرائیورز ، مالی اور چوکیدار شامل ہیں۔واضح رہے کہ یہ منصوبہ سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے آخری دور میں شروع کیا گیا تھا لیکن تاحال مکمل نہ