Tag Archives: کیا

مجھ سے معیشت پر سوال کب کیا جائے؟ 5 سال بعد معیشت کہاں ہو گی؟ وزیراعظم نے قوم کوبتا دیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، یہ بات وزیراعظم پاکستان عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں کہی، انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت میں ماضی کی طرح کوئی بزنس ایمپائر نہیں بنا رہا،وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ نیا پاکستان ہے کیونکہ میگا کرمنل کیسزمیں جس طرح لوگ جیلوں میں ہیں پہلے کبھی نہیں تھے۔
انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ 13 مہینوں میں وزیراعظم یا کسی وزیر کے خلاف کرپشن کیس نہیں آیا یہی نیا پاکستان ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ

جب وزارت عظمی ٰ کا منصب سنبھالا تو پاکستان پر 90.5 ارب ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تھا، ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ہم نے 70فیصد کمی کردی ہے، انہوں نے کہا کہ ہم نے برآمدات بڑھائی ہیں اور درآمدات کم کی ہیں، وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی چالیس فیصد بجلی درآمدی ایندھن سے حاصل ہوتی ہے، انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سٹیل مل آئندہ چار ماہ میں کام کرنا شروع کر دے گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میری حکومت کے پانچ سال مکمل ہو جائیں تو تب ملک کی معیشت پر سوال کیا جائے، انہوں نے کہا کہ کسی حکومت کی کارکردگی جانچنے کا وقت پانچ سال بعد کا ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ پہلی دفعہ پاکستان میں معیشت کو درست کیا جا رہا ہے، وعدہ کرتا ہوں کہ پانچ سال بعد حکومت چھوڑیں گے تو سرپلس اکنامی ہو گی، وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے یہ آخری پیکج ہو گا، ہمیں آئی ایم ایف کی جانب سے اخراجات میں کمی اور ریونیو بڑھانے کے علاوہ کچھ نہیں کہا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تواختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا اورایٹمی جنگ کے نتائج صرف دو ملکوں کے درمیان نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلیں گے جو بہت بھیانک ہونگے۔وزیراعظم عمران خان نے الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی جنگ سے بچنے کیلئے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا ہوگا
کیونکہ ہم نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کامعاملہ اٹھایاہے تاکہ جنگ سے بچا سکے لیکن ہندوستان نے پاکستان یا آزاد کشمیر میں کوئی جارحیت کی تو اسکا منہ توڑ جواب دیں گیاورہندوستان کو پتہ ہونا چاہئے کہ پاکستانی قوم ایک ایسی قوم ہے جو خون کے آخری قطرے تک لڑے گی انہوں نے کہا کہ جب بھی دو ایٹمی طاقتیں لڑیں گی تو اختتام اسکا بھیانک ہوگا اور ہمیں سنگین نتائج کا سامنا کرنے پڑے گا اور اس ایٹمی جنگ کے نتائج پوری دنیامیں پھیلیں گے،
انہوں نے کہا کہ مودی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے اور وہ ایک ہٹلر کا کردار ادا کررہے ہیں،ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت میں الیکشن کے دوران ہی ہمیں اندازا ہوگیا تھا کہ مودی ایک بار پھر برسراقتدار آئیں گے اور ہمیں یہ تشویش تھی کہ بی جے پی کی کامیابی سے ایک بار پھر پاک بھارت تعلقات کشید ہ ہوں گے اور عین مطابق وہی حالات چل رہے ہیں،پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ بھارت کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور ہم اس کوشش میں کامیاب بھی رہیں ہیں،مذاکرات میں دونوں ملکوں کے مابین تمام معاملات پر اتفاق ہو جاتا ہے جب کشمیر کی بات آتی ہے تو بھارت بھاگ جاتا ہے،
ہم نے مسئلہ کشمیر کے ایشو کو ہر فورم پر کامیابی سے اٹھایا ہے اور بین الاقوامی ممالک نے مسئلہ کشمیر پر ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے،اقوام متحدہ سمیت تمام بین الاقوامی اداروں نے مسئلہ کشمیر کے حل لئے بھارت پر دباؤ ڈالا ہے، مسئلے کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قرار داد موجود ہے،دنیا کے تمام اقوام کو چاہیے کہ وہ اس قرار داد پر عملدرآمد کرائیں،عمران خان نے کہا کہ واشنگٹن میں بین الاقوامی ممالک کے سربراہوں کے ساتھ مسئلہ کشمیر بھر پور طریقے سے اٹھاؤں گا،میری تجویز ہے کہ امریکہ،روس اور چین مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں،اس حوالے سے ان ممالک کے سربراہوں سے بات کر چکا ہوں اور خوشی ہے کہ امریکہ،چین اور روس نے مسئلہ کے حل کیلئے ہماری تجویز پر کی مکمل حمایت کی ہے جس کا میں ان کا مشکور ہوں۔

موضوعات:

loading…



ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں،بہتری لانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انتباہ کردیا

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،ہمارے پاس بہترین ججزکام کررہے ہیں مگرتاریخ دان بتائیں گے ہمارے ججز فیصلے کرتے ہوئے معیار پریاتعداد پر یقین رکھتے تھے،
جب میں نے اپنی وکالت شروع کی تب ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے،میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم

ظفر جیسے بنو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں معروف قانون دان ایس ایم ظفرکی کتاب ”ہسٹری  آف پاکستان ری انٹرپریٹڈ“کی تقریب رونمائی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی ظفر، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد،سابقہ سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد خانسمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے اپنے انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،تاریخ دان ہی ہمارے موجودہ دور کے بارے میں بتائیں گے،میرا عہدہ موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمارے معاشرے میں بہترین وکلاء موجود ہیں،مگرتاریخ دان بتائیں گے کہ آج کے وکلاء بہترین دلائل دیتے تھے،ان کاانداز بیاں اچھا تھایا وہ ہاتھ سے دلائل دینا جانتے تھے۔اپنے رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا،اسی فارمولے کے تحت پاکستانی عدلیہ نے مقدمات نمٹانے کا ریکارڈ قائم کیا۔
خصوصی فوجداری ٹرائل عدالتوں نے 137دنوں میں 36000 ٹرائل نمٹادئیے گئے،نئے قوانین، اضافی اخراجات، موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی اہداف مکمل کرنا خوش آئند ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیے قلمبند کیا ہو گا۔ہمارے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھا رہا ہے، جب میں نے اپنی وکالت شروع کی اس وقت ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔ میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔
ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے، یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلے دیتے ہیں، مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایس ایم ظفر اور میرے سسر آپس میں دوست تھے،میرے سسر ہمیشہ مجھ سے ایس ایم ظفر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ایس ایم ظفر صاحب نے مجھ سے اس کتاب کے بارے میں میرے نظریات پوچھے،مجھے اس کتاب کے بارے بہت کچھ لکھنا تھا لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ہم پاکستان کی مختلف تواریخ پڑھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس مختلف کتابیں ہیں،اس کتاب کے پہلے حصے میں تمام حقائق بیان ہیں۔تقریب سے دیگر نے بھی خطاب کیا۔

موضوعات:

loading…



کشمیر کے معاملے پر پاکستان نے بہت دیر کر دی، اب کیا ہوگا؟سابق وزیر خارجہ حسین ہارون کے انتہائی تشویشناک انکشافات

کراچی(این این آئی)پاکستان کے سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر بہت دیر کر دی ہے پاکستان کو فوری ردعمل دینا چاہیے تھا۔ایک انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ حسین ہارون نے کہا کہ میں تو بہت پہلے سے کہہ رہا تھا پاکستان کو تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہندوستان کے ارادے درست نہیں تھے۔
انہوں اے کہاکہ بھارتی انتخابات کے موقع پر عمران خان کے مودی کی حمایت میں بیان ان کی غلط فہمی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے کشمیر کا سفیر بننے ک اعلان کر رکھا ہے تاہم ہمیں اپنی

حکمت عمل پر بھی غور کرنا چاہیے کہ وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں۔حسین ہارون نے کہا کہ بھارتی عزائم کافی عرصے سے نظر آ رہے تھے اور ان کے بیانات سے لگ رہا تھا کہ وہ تیاری کر رہے ہیں تاہم اس حوالے سے پاکستان کی کوئی تیار نظر نہیں آ رہی تھی اور پاکستان اب بھی تیار نظر نہیں آ رہا، حکومت پہلے یہ تو طے کر لے کہ اس نے کرنا کیا ہے؟سابق وزیر نے کہا کہ پاکستان کو طالبان امریکہ مذاکرات میں کردار ادا کرنے سے قبل یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ وہ پہلے آپ پر سے ایف اے ٹی ایف کی سختیوں کو ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا گلا پھندے میں آیا ہوا ہے اور پاکستان کو چاہیے کہ وہ معاملے پر سخت اقدامات کرے تاکہ بھارت کے پاس کوئی جواز نہ رہے۔حسین ہارون نے کہا کہ دنیا عمران خان کو پہلے سے جانتی ہے اور وہ یورپ اور امریکی میں جانا پہچانا برانڈ ہے تاہم کیا انہوں نے اپنی شہرت کا فائدہ اٹھایا؟ عمران خان اگر سفیر بن کر نکل پڑیں گے تو پاکستان کو کون چلائے گا؟انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی جارحیت کا فوری جواب دینا چاہیے تھا لیکن پاکستان نے بہت دیر کر دی اور جوں جوں معاملے میں تاخیر ہوتی رہے گی معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔



طاہرالقادری کا سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان ‎، وجہ کیا بنی؟سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے خود ہی بتا دیا‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) طاہر القادری کا سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کا اعلان ،نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا، پارلیمنٹ کا حصہ بن کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، پارلیمنٹ میں سب کچھ ہوتا ہے لیکن عوامی فلاح اور بہبود کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست
میں غریب اور متوسط طبقے کی کوئی گنجائش نہیں ، زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ صرف اور صرف اقتدار کے لیے

زندہ رہتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہادتیں تحریک کی جاری جدوجہد کا ایک نتیجہ تھیں، 3 ماہ تک عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا گیا جس کے نتیجے میں احتساب کا ایک عمل شروع ہوا۔ مجھے تصنیف وتالیف کے بے پناہ کام اور صحت کے مسائل ہیں اس لیے سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں۔



سپریم کورٹ نے2017 کے بعد سے نجی اسکولوں کی فیسوں میں کیا گیا اضافہ کالعدم قراردیدیا، تفصیلی فیصلہ جاری

اسلام آباد(سی پی پی)سپریم کورٹ نے اسکول فیسوں سے متعلق درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔سپریم کورٹ نے نجی اسکولز ایسوسی ایشن کو سالانہ پانچ فیصد سے زائد فیس نہ بڑھانے کا حکم دیا تھا جب کہ سات فیصد تک فیس بڑھانے والے اسکولوں کو اسپیشل کیس کے طور پر ریگولیٹری باڈی کے پاس جانے کا بھی حکم دیا تھا ۔
جب کہ نجی اسکولز ایسوسی ایشن نے عدالت کے فیصلے کو پہلے رضا کارانہ طور پر قبول کیا جسے بعد میں چیلنج کردیا گیا۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت

کی تھی جس کا 69 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس اعجازلحسن نے تحریر کیا ہے جب کہ فیصلے میں جسٹس فیصل عرب نے اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سالانہ فیسوں میں 5 فیصد اضافے کی حد مقرر کرنا مناسب نہیں، فیسوں میں سالانہ 8 فیصد اضافہ کرنا زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری تفصیلی فیصلے میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں 2017 کے بعد کیا گیا اضافہ کالعدم قرار دیا گیاہے اور نجی اسکولوں کی فیسوں کو جنوری 2017 کی تاریخ تک منجمد کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہیکہ نجی اسکولوں نے 2017 سے خلاف قانون فیس میں بہت زیادہ اضافہ کیا، نجی اسکولوں کی فیس وہی ہوگی جو جنوری 2017 میں تھی، فیسوں میں کی گئی 20 فیصد کمی والدین سے ریکور نہیں کی جائے گی، نجی اسکول قانون کے مطابق اپنی فیسوں کا دوبارہ تعین کریں۔سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اسکولوں کی فیس کی ری کیلکولیشن کی نگرانی متعلقہ ریگولیٹری اتھارٹی کرے گی۔
متعلقہ اتھارٹی کی منظور شدہ فیس ہی والدین سے لی جاسکے گی، والدین سے لی گئی اضافی فیس آئندہ فیس میں ایڈجسٹ کی جائے، ریگولیٹرز اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس کی نگرانی کریں۔عدالت نے حکم دیا کہ اسکول فیس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے کمپلینٹ سیل بنایا جائے۔دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اس حوالے سے صورتحال انتہائی دلچسپ ہے جہاں سپریم کورٹ کے فیسوں میں کمی کے احکامات کے باوجود نجی اسکول سپریم کورٹ کے فیصلے کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
نجی اسکول اس فیصلے کو صرف پنجاب اور سندھ کے لیے قابل عمل قرار دے رہے ہیں اور اسلام آباد میں نئے سال کے موقع پر فیسوں میں 35 سے 45 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے اور چھٹیوں کی پوری فیس بھی والدین سے وصول کی جارہی ہے۔اس حوالے سے نجی اسکولوں کی ایسوسی ایشن نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق کی عدالت سے حکم امتناع بھی حاصل کررکھا ہے جس کی سماعت کے لیے دو ماہ بعد کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔جسٹس عامر فاروق نے اپنے حکم امتناع میں اسلام آباد کی نجی اسکولوں کی ریگولیٹری باڈی کو یہ حکم دیا ہیکہ کیس کی سماعت کے دوران وہ نجی اسکولوں کو کسی قسم کا خط بھی نہیں لکھ سکتے۔



عثمان بزدار نےعمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری کواہم عہدے سے ہٹا دیا،جانتے ہیں وجہ کیا بنی؟

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)عمران خان کے قریبی ساتھی عون چوہدری کو وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مشیر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا،نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب عثما ن بزدار کے مشیر عون چوہدری کو عہدے سے فارغ کردیا گیا ہے تاہم تاحال اس کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ۔
عون چوہدری کی جگہ آصف محمود کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقر ر کر دیا گیاہے ، آصف محمود پنجاب ہارٹیکلچر اور ٹورازم کے معاملات دیکھیں گے۔دوسری جانب پنجاب کی کابینہ میں توسیع کی منظوری دیدی گئی ہے ، اسد کھوکھر کو وزیر بنانے کا فیصلہ کر لیا گیاہے ،

وہ آج حلف اٹھائیں گے ۔



مولانا فضل الرحمن 50سے 60بندے کس لئے مروائیں گے؟ کارکنوں کو کس کام کیلئے تیار کیا جارہاہے؟امیر جے یو آئی نے خطرناک منصوبہ بنا لیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ احتجاج جمہوریت کا حسن ہے۔لیکن بے مقصد فراڈ جمہوریت کا حسن نہیں ہے۔لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ مارنا جمہوریت نہیں۔بے شک احتجاج کرنا مولانا فضل الرحمن کا حق بنتا ہے۔
لیکن مولانا فضل الرحمن یہ بتائیں کہ آپ جتنی دیر اقتدار میں رہے اس قوم کے لیے کیا کیا؟کیا وجوہات ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ دونوں کے لیڈر جیل کے اندر ہیں لیکن پھر بھی انہوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔کے پی کے میں

لوگوں کو روزگار نہیں ملا۔ان کے پاس سڑکیں نہیں، علاج کرنے کے لیے ہسپتال نہیں ۔ وزیراعظم کو ہٹانا ہے تو آئینی طریقے سے ہٹائیں۔مولانا فضل الرحمن جس کشمیر کمیٹی کے رکن رہے اس کے لیے آپکی زبان کبھی نہیں کھلی۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر کچھ نہیں کہا۔کاش ووٹ کو عزت دینے والے واقعی ووٹ کو عزت دیتے،انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ 50 سے 60 بندے کس لیے مروائیں گے؟۔یاد رہے کہ پہلے بھی یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کو فوج کے خلاف تیار کر رہے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمن جانتے ہیں کہ جب وہ اسلام آباد کی طرف آئیں گے تو اہم تنصیبات، اہم اداروں اور اہم مقامات کی سکیورٹی فوج کے پاس ہو گی۔اس لیےمولانا فضل الرحمن اپنے کارکنان کو ذہنی طور پر تیار کر کے لا رہے ہیں کہ اگر فوج ڈیوٹی پر ہو تو یہ پاک فوج کے جوانوں سے بھی لڑ جائیں اور ان جوانوں پر بھی حملہ آور ہوں اور یہ انتہائی خطرناک چیز ہے۔ مولانا فضل الرحمن ان کارکنان کی برین واشنگ کر رہے ہیں۔



خیبر پختونخوا کی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ،کس علاقے کے ممبران اسمبلی کو شامل کیا جائیگا؟وزیراعظم نے منظوری دیدی

پشاور(سی پی پی)خیبر پختون خواہ کی کابینہ میں مزید توسیع کا فیصلہ کر لیا گیاہے اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کی منظوری دیدی ہے۔تفصیلات کے مطابق قبائلی اضلاع سے کامیاب ہونے والے تین
امیدواروں کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا، ممکنہ وزراکے نام وزیراعظم عمران خان کو ارسال کر دیئے گئے ہیں۔ شوکت یوسفزئی کا کہناتھا کہ وزیراعلی خیبر پختون خواہ آئندہ ہفتے نئے وزراکا اعلان کر یں



قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کاشاہد خاقان عباسی  کوخط کا جواب،مطمئن نہیں تو کیا کام کریں؟مشورہ بھی دے دیا

اسلام آباد(آن لائن)قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے رکن اسمبلی شاہد خاقان عباسی کو خط کاجواب دیدیا، جوابی خط سپیکر اسمبلی اسد قیصرکی ہدایت پر لکھا گیا۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے لکھے گئے جوابی خط کے متن کے مطابق پروڈکشن آرڈرز کے معاملے پر اسپیکر غیر جانبدارانہ سوچ سے فیصلہ کرتے ہیں،اسپیکر بحیثیت قومی اسمبلی کے کسٹودین اراکین کے حقوق کا تحفظ کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور اسپیکر زیر حراست رکن کے خلاف درج شدہ کیس کی
نوعیت کا بغور جائزہ لیتے ہیں  جبکہ پروڈکشن آرڈر کا اجراء اسپیکر کا صوابدیدی اختیار ہے رکن اس

کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ اسمبلی کے قواعد وضوابط کے مطابق اسپیکر ضروری سمجھنے پر زیر حراست رکن کو اجلاس میں شرکت کے لیے طلب کر سکتا ہے۔پروڈکشن آرڈر کے اجراء سے متعلق آئینی گنجائش موجود نہیں۔اگر زیر حراست رکن اسپیکر کی جانب سے پروڈکشن آرڈرز کے اجراء  پر مطمئن نہیں تو اس سلسلہ میں عدالت سے رابطہ کرسکتا ہے۔



لوئر دیر دھماکے میں شہید ہیڈ کانسٹیبل کی جیب سے ملنے والی پرچی میں ایسا کیا تحریر تھا جس نے سب کوآبدیدہ کردیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) خیبر پختونخوا پولیس کے کانسٹیبل سیف اللہ جو 4 ستمبر کو لاجبوک میں بیاری کے مقام پر ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں شہید ہو گئے تھے۔اس کی جیب سے ملنے والی پرچی میں اس کے ادھار کا حساب درج تھا۔قرض کی اس پرچی میں تحریر تھا کہ اسے اپنے ساتھی اہلکار کے 60 روپے ادا کرنے ہیں جب کہ ہیڈ کانسٹیبل کے 200 روپے وہ ادا کرچکا تھا۔اس کے علاوہ احمد زیب نامی شخص کے 5 ہزار، افتخار نامی شخص کے 3 ہزار،
سہیل احمد نامی شخص کے 250 روپے، افتخار نامی شخص کے 3ہزار روپے اور ایک

دکاندار فرحان کے 300 روپے لوٹانے کی رقوم بھی تحریر تھی۔ سیف اللہ کے بھائی نے بتایا کہ ان کے بھائی اس وقت شہید ہوئے جب وہ معمول کے گشت پر تھے۔ سیف اللہ کے دوست کا کہنا ہے کہ اس کی ایمانداری، ذمہ داری اور شہادت نے اہلخانہ، گاؤں والوں اور محکمہ پولیس کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔شہید کانسٹیبل سیف اللہ نے سوگواران میں بیوہ، دو بچے چھوڑے ہیں۔