Tag Archives: ہی

ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں،بہتری لانے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے انتباہ کردیا

لاہور(این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا، جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،ہمارے پاس بہترین ججزکام کررہے ہیں مگرتاریخ دان بتائیں گے ہمارے ججز فیصلے کرتے ہوئے معیار پریاتعداد پر یقین رکھتے تھے،
جب میں نے اپنی وکالت شروع کی تب ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے،میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم

ظفر جیسے بنو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں معروف قانون دان ایس ایم ظفرکی کتاب ”ہسٹری  آف پاکستان ری انٹرپریٹڈ“کی تقریب رونمائی میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب میں قائمقام چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس مامون رشید شیخ،لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی ظفر، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، سابق چیئرمین سینیٹ وسیم سجاد،سابقہ سیکرٹری خارجہ شمشاداحمد خانسمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تاریخ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے اپنے انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے،جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس میں تاریخ بن نہیں رہی بلکہ حقائق اجاگرہورہے ہیں،تاریخ دان ہی ہمارے موجودہ دور کے بارے میں بتائیں گے،میرا عہدہ موجودہ صورتحال پر بات کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ہمارے معاشرے میں بہترین وکلاء موجود ہیں،مگرتاریخ دان بتائیں گے کہ آج کے وکلاء بہترین دلائل دیتے تھے،ان کاانداز بیاں اچھا تھایا وہ ہاتھ سے دلائل دینا جانتے تھے۔اپنے رویوں کو تبدیل کئے بغیر بہتری نہیں لائی جاسکتی،بہتری لانے کیلئے ادارے، رویے اورسوچ کو ایک پیج پرلانا ہوگا،اسی فارمولے کے تحت پاکستانی عدلیہ نے مقدمات نمٹانے کا ریکارڈ قائم کیا۔
خصوصی فوجداری ٹرائل عدالتوں نے 137دنوں میں 36000 ٹرائل نمٹادئیے گئے،نئے قوانین، اضافی اخراجات، موجودہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ہی اہداف مکمل کرنا خوش آئند ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کتاب میں پاکستان کی تاریخ کا جامع احاطہ کیا گیا ہے۔ کتاب پڑھتے ہوئے میرا خیال تھا کہ مصنف نے حالیہ حالات کو کیے قلمبند کیا ہو گا۔ہمارے ملک میں ایسے تعلیمی ادارے بھی ہیں جہاں سیکنڈ ایئر کا طالب علم فرسٹ ایئر کے طالب علم کو پڑھا رہا ہے، جب میں نے اپنی وکالت شروع کی اس وقت ایس ایم ظفر ایک چمکتے ستارے کی طرح تھے۔ میں اپنے شاگردوں کو کہتا تھا اگر تمہیں مجھ جیسا بننا ہے تو ایس ایم ظفر جیسے بنو۔ 99 فیصد لوگوں نے ہمارے فیصلے پڑھے ہی نہیں ہوتے کیونکہ انہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔
ججز کے فیصلوں پر وہ لوگ تبصرہ کرتے ہیں جنہیں قانون کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہم کبھی امید نہیں چھوڑ سکتے، یہی ہمارا ملک ہے، ہمارا مسکن ہے اور ہم نے یہیں رہنا ہے اس لیے ہم نے حقیقت پسند بننا ہے اور آنکھیں بند نہیں کرنی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس سسٹم میں رہتے ہوئے ہم نے کامیابیاں حاصل کی ہیں، جج محنت کر کے ایمانداری سے فیصلے دیتے ہیں، مثبت سوچ کے ساتھ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔انہوں نے شرکاء کو بتایا کہ ایس ایم ظفر اور میرے سسر آپس میں دوست تھے،میرے سسر ہمیشہ مجھ سے ایس ایم ظفر کے بارے میں پوچھتے تھے۔ایس ایم ظفر صاحب نے مجھ سے اس کتاب کے بارے میں میرے نظریات پوچھے،مجھے اس کتاب کے بارے بہت کچھ لکھنا تھا لیکن کام کی زیادتی کی وجہ سے نہیں لکھ سکا۔ہم پاکستان کی مختلف تواریخ پڑھتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس مختلف کتابیں ہیں،اس کتاب کے پہلے حصے میں تمام حقائق بیان ہیں۔تقریب سے دیگر نے بھی خطاب کیا۔

موضوعات:

loading…



سابق گگلی ماسٹر عبدالقادر (مرحوم) وزیراعظم عمران خان کیلئے لکھی نظم انہیں پیش کئے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے

اسلام آباد(آن لائن) سابق ٹیسٹ کرکٹر گگلی ماسٹر عبدالقادر (مرحوم) وزیراعظم عمران خان کیلئے لکھی نظم انہیں پیش کئے بغیر ہی دنیا سے رخصت ہو گئے ۔رہنما تحریک انصاف عثمان ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر (مرحوم)عبدالقادر کی وزیراعظم عمران خان کیلئے لکھی ہوئی نظم شیئر کی ۔
عثمان ڈار نے کہا کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر گگلی ماسٹر عبدالقادر (مرحوم) نے وزیراعظم عمران خان کیلئے ایک نظم لکھی تھی جو وہ انہیں ملاقات میں سنانا چاہتے تھے اور اس کیلئے وہ مجھ سے مسلسل رابطے میں تھے‘عبدالقادر میرے ساتھ یہ نظم وزیراعظم کو پیش کرنے ہی والے تھے

۔انہوں نے کہا عبدالقادر اور میں بہت جلد وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کرنیوالے تھے۔ مرحوم کی نظم کا متن تھا کہ ’’وزیراعظم عمران خان خوبصورت اور دبنگ شخصیت ہیں،عمران خان کا و یژن سمندر جتنا گہرا ہے، عمران خان عظیم سوچ اور فلسفہ کے مالک ہیں، عمران خان ڈٹ جانیوالے دلیر اور بہادر آدمی ہیں۔عبدالقادر نے نظم کے آخری حصے میں وزیراعظم عمران خان سے خصوصی درخواست کی کہ برائے مہربانی کسی کیساتھ بھی ڈیل نہ کیجئے گا، کپتان جی میں نے اس نظم کے تمام الفاظ خود لکھے ہیں،تمام الفاظ میرے جذبات اور احساسات کے ترجمان ہیں ۔واضح رہے کہ سابق عظیم لیگ سپنر عبدالقادر رواں ماہ 6ستمبر کو دل کا دورہ پڑنے کے باعث 63 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔



طاہرالقادری کا سیاست سے کنارہ کشی کا اعلان ‎، وجہ کیا بنی؟سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے خود ہی بتا دیا‎

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) طاہر القادری کا سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کا اعلان ،نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ کا ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہم نے کرپشن کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں بھرپور کردار ادا کیا، پارلیمنٹ کا حصہ بن کر سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا، پارلیمنٹ میں سب کچھ ہوتا ہے لیکن عوامی فلاح اور بہبود کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے ہماری سیاست
میں غریب اور متوسط طبقے کی کوئی گنجائش نہیں ، زیادہ تر ارکان پارلیمنٹ صرف اور صرف اقتدار کے لیے

زندہ رہتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شہادتیں تحریک کی جاری جدوجہد کا ایک نتیجہ تھیں، 3 ماہ تک عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا گیا جس کے نتیجے میں احتساب کا ایک عمل شروع ہوا۔ مجھے تصنیف وتالیف کے بے پناہ کام اور صحت کے مسائل ہیں اس لیے سیاست اور سیاسی سرگرمیوں سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتا ہوں۔



قومی ٹیم کے نئے بائولنگ کوچ وقار یونس نے آتے ہی اپنے عزائم ظاہر کردئیے

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا ہے کہ وہ مصباح کی لیڈر شپ میں کام کرنے کے منتظر ہیں۔ایک انٹرویومیں وقار یونس نے کہاکہ وہ مصباح الحق کے ساتھ مل کر ایسا یونٹ بنانا چاہتے ہیں جو پاکستان ٹیم کو ٹاپ پر لے جائیگا، انہوں نے اپنی تقرری پر پی سی بی کا بھی شکریہ ادا کیا۔واضح رہے کہ وقار یونس لاہور میں ہفتے سے شروع ہونے والی قائد اعظم ٹرافی کا میچ بھی دیکھیں گے۔



بھارت میں پناہ کے خواہشمند بلدیو کمار کے بھائی بھی میدان میں آگئے،ساری حقیقت کھول کر رکھ دی،قصہ ہی ختم

سوات( آن لائن ) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سابق رکنِ صوبائی اسمبلی کے بھائیوں امرناتھ اور تلک کمار نے بلدیو کمار کی جانب سے پاکستانیوں میں اقلیتوں کے عدم تحفظ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہمیں اپنے حقوق مل رہے ہیں۔
اپنے بھائی کی جانب سے بھارت میں پناہ کی درخواست کی اطلاعات پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلدیو کمار کے حوالے سے بھارتی میڈیا کا پروپیگنڈہ بے بنیاد ہے اور پاکستان میں اقلیتوں کو کوئی خطرہ نہیں۔دونوں بھائیوں کا کہنا تھا کہ بلدیو کمار سے متعدد مرتبہ

رابطہ کرنے کی کوشش کرچکے ہیں لیکن وہ تا حال لاپتہ ہیں انہوں نے اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا کہ ہوسکتا ہے کہ بلدیو کمار سے زبردستی بیان لیا گیا ہو۔امرناتھ اور تلک کمار کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیں بہت عزت دی ہے اس کے لیے ہماری جانیں بھی قربان ہیں۔انہوںں نے مزید یہ بھی کہا کہ اگر کشمیر میں جنگ چھڑی تو سکھ برادری پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گی اور ہم اپنی جان پاکستان کے لیے اپنی جان قربان کر دیں گے۔خیال رہے کہ پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے سابق اقلیتی رکن بلدیو کمار نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ’پاکستان میں اقلیتوں کو تحفظ حاصل نہیں‘۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’میں سچ بولتا تھا اس لیے میری جان کو خطرہ تھا جس کی بنا پر میں کچھ دوستوں سے مشورہ کر کے عید کے روز پاکستان سے نکل گیا‘۔مذکورہ بیان منظر عام پر آنے کے بعد ردِ عمل دیتے ہوئے خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے کہا تھا کہ ’اقلیتوں سے متعلق بلدیو کمار کا بیان انتہائی مایوس کن ہے، پاکستان میں اقلیتی برادری کے افراد تمام مذہبی آزادی کے ساتھ پرسکون زندگی بسر کررہے ہیں‘۔دوسری جانب وفاقی وزیر سائس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی بلدیو کمار کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’بھارت میں لوگ کس بات کی خوشی منا رہے ہیں، ایک ملزم پاکستان میں مقدمے سے بچنے کے لیے سیاسی پناہ حاصل کررہا ہے ۔

موضوعات:

loading…



ظالم نے اسے پانی بھی نہیں پلایا مارتا ہی رہا، جس ہسپتال میں لے کر گئے وہاں ایمرجنسی ہی نہیں تھی، لاہور میں سکول ٹیچر کے تشدد سے وفات پانے والے حافظ حسنین کے ساتھ کیا ہوا؟ والدہ کے لرزہ خیز انکشافات

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) سکول ٹیچر کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے حنین کی والدہ نے اپنے ایک بیان میں روتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے بچے کو صحیح سلامت اپنے ہاتھوں سے سکول بھیجا تھا، ظالم نے اسے اتنا زیادہ مارا، اسے پانی بھی نہیں پلایا وہ مارتا ہی رہا مارتا ہی رہا، کسی طالب علم نے بھی جا کر نہیں پکڑا، بس سبق ہی تو نہیں یاد تھا، یہ لوگ جس ہسپتال میں میرے بچے کو لے کر گئے وہاں ایمرجنسی ہی نہیں تھی،
بچہ ایمبولینس میں پڑا ہوا تھا، میں نے کہا کہ حنین اٹھ جاؤ تمہاری

ماما آئی ہے وہ ہلا ہی نہیں اس کے سانس ختم ہو چکے تھے، وہ مردہ حالت میں تھا، ظالم نے اتنا مارا کہ میرے بچے نے کہا کہ میرے دل کو کچھ ہو رہا ہے سر کہتے ہیں کہ ڈرامے کر رہا ہے، میرے بچے کی شرٹ ہی غائب کر دی، میرے بچے کا سر ہی دیوار پر دے مارا۔ میرا بچہ تو سر پر بالوں کو ہاتھ ہی نہیں لگانے دیتا تھا، وہ کہتا تھا کہ ماما میرے بالوں پر ہاتھ پیار سے کیوں پھیرتی رہتی ہیں، ظالم سر نے بالوں سے پکڑ کر ہی دے مارا میرے بچے کو، سارے دوست اس کے کھڑے تھے لیکن کسی نے ہمت نہیں کی کہ سر ہمیں بھی نہ مارنے لگ جائیں۔ میرے بیٹے کے ساتھ کسی نے دوستی نہ نبھائیں بے چارہ بیس منٹ تک تڑپتا ہی رہا اگر اسے فوراً ہسپتال پہنچا دیتے تو شاید بچ جاتا۔ ایک تھپڑ کافی تھا اتنا مارنے کی کیا ضرورت تھی، اسے مارنے کی اتنی کیا ضرورت تھی، حنین کو مارنے والے کو میرے سامنے لایا جائے میں اس کا گریبان پکڑ کر اس سے پوچھوں کہ میرے بچے نے تیرا کیا بگاڑا تھا۔  دوسری جانب سکول ٹیچر کے ہاتھوں جان کی بازی ہارنے والے حنین کے والد نے بیٹے کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں تشدد کے نشان تک غائب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیراعظم سمیت چیف آف آرمی سٹاف سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق رات گئے سکول استاد کے مبینہ تشدد سے جاں بحق ہونے والے حنین بلال کے والد محمد بلال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میوہسپتال کے ڈاکٹروں نے اسکول انتظامیہ کی ملی بھگت سے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گڑ بڑ کی،
رپورٹ میں تشدد کے واضح نشان اور سر کی چوٹ تک ظاہر نہیں کی گئی۔مقتول طالب علم کے والد نے الزام عائد کیا کہ ڈاکٹرملزم کامران کوبے گناہ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر حکام انہیں انصاف فراہم نہیں کرسکتے تو انہیں بھی بیٹے کیساتھ ہی دفنا دیں،اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ دھرنا دیں گے،مقتول طالب علم کے والد کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف واقعے کا نوٹس لیں۔واضح رہے کہ پانچ ستمبر کو لاہور کے علاقے گلشن راوی میں نجی اسکول میں ٹیچر کے تشدد سے طالب علم انتقال کر گیا، اہل خانہ کا کہنا تھا کہ 16 سال کا حنین ٹیچر کے تشدد سے بے ہو ش ہوا لیکن اسکول انتظامیہ نے اسے اسپتال نہیں بھیجا۔



امریکا پاکستان کو پھر”قربانی کا بکرا“بنائے گا،امریکہ اور افغان طالبان میں جنگ بندی کامعاہدہ ہوا ہی نہیں تھا،اب کیا ہونیوالا ہے؟دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے خطرناک پیش گوئی کردی

واشنگٹن /کابل/اسلام آباد(این این آئی) امریکی صدرٹرمپ کی جانب سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات ختم کیے جانے کے اعلان سے نہ صرف افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ یہ پاکستان کے لیے ایک نیا چیلنج بھی ہوگا ایک ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو خارجہ پالیسی کے میدان میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ابھی تک حکومت پاکستان کی جانب سے ٹرمپ کے اس اعلان کا باضابطہ سرکاری ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔
حکومت کو اندازہ ہے کہ قیام امن کا راستہ کتنا ناہموار ہے تاہم اسلام آباد کو امید نہیں تھی کہ

افغان طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات ممکنہ امن معاہدے کے بالکل قریب پہنچنے کے بعد اچانک ختم ہوجائیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک سرکاری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستان کو علم تھا کہ صدر ٹرمپ جلد طالبان کے چند سینئر رہنماؤں سے کیمپ ڈیوڈ میں ایک خفیہ ملاقات کرنے والے ہیں جس کے نتیجے میں افغانستان میں قیام امن کی راہ ہموار ہوگی اور اب اسلام آباد کو ان مذاکرات کے یوں اچانک ختم ہوجانے پر تشویش لاحق ہے کیونکہ ایسی صورت میں پاکستان کو دباؤ بڑھے گا کہ وہ افغان طالبان کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کے لیے مزید اقدامات اٹھائے۔صدر ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے مذاکرات معطل کیے جانے کا سبب جمعرات کو کابل میں ہونے والے حملے میں امریکی فوجی کی ہلاکت کو قرار دیا جارہا ہے۔تاہم پاکستان کا خیال ہے کہ اس کے پس پردہ دیگر محرکات اور وجوہات بھی ہوسکتی ہے جو یوں امریکا نے اچانک مذاکرات کو معطل کیا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے شاید یہ سوچ کر مذاکرات منسوخ کیے ہوں تاکہ وہ طالبان کو مستقل جنگ بندی پر آمادہ کیا جاسکے جس کی وہ ہمیشہ سے مخالفت کرتے رہے ہیں، اور اگر یہ وجہ ہے تو پھر پاکستان کی اہمیت ایک بار پھر بڑھ جاتی ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اب پاکستان سے کہے گی کہ وہ افغان طالبان کو مستقل جنگ بندی پر آمادہ کرے۔
امریکا میں تجزیہ کار اور مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا کسی فوجی کا قتل اصل وجہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا ہوتا تو امریکا کو صرف اس سال کے بعد ہی طالبان کے ساتھ بات چیت نہیں کرنا چاہیے تھی کیونکہ صرف 16 امریکی امریکی فوجی اہلکار باغیوں کے ہاتھوں ہلاک ہوئے تھے۔ٹرمپ کے آخری لمحے کے فیصلے کے پیچھے ایک ممکنہ وجہ طالبان کو مستقل طور پر جنگ بندی پر راضی کرنا، دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے متنبہ کیا کہ اگر وہ اس کی شرائط پر طالبان سے معاہدہ کرنے میں ناکام رہا تو امریکا پاکستان کو قربانی کا بکرا بنائے گا۔
امریکی فوجیوں کی واپسی سے پاکستان کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کے مواقع بھی کھلیں گے جب ایسے وقت میں جب اسلام آباد کو کشمیر کے بارے میں بھارت کے ساتھ تناو کو روکنے کے پس منظر کے خلاف اپنی حمایت کی اشد ضرورت ہے۔سینئر دفاعی تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل ر امجد شعیب نے کہا ہے کہ افغان طالبان مذاکرات کی منسوخی امریکی بدنیتی پرمبنی ہے، امریکا افغان طالبان میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا ہی نہیں تھا، امریکا جاتے ہوئے بلیک واٹر کو پیچھے چھوڑ کر جا رہا تھا، روس اور چین کیلئے بھی وہاں کچھ خراب صورتحال چھوڑ ی جارہی تھی، پاکستان علاقائی ممالک سے ملکر صورتحال کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرے گا۔



گگلی ماسٹر عبدالقادر کی پاکستان سے محبت کی ایک اور مثال ! کمرے سے ایسی چیز مل گئی کہ دیکھنے والے دیکھتے ہی رہ گئے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دنوں انتقال کرجانے والے لیجنڈری قومی لیگ سپنر عبدالقادر کی پاکستان سے محبت کی ایک اور مثال سامنے آگئی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ”گگلی ماسٹر“ کے گھر میں ایک کمرے کی ہر چیز پر قومی پرچم بنا ہوا تھا ، اس کمرے کی ٹیبل سے لے کر پردوں تک
اور کرسی سے لے کر تصویروں تک سے پاکستانی پرچم کے رنگ نمایاں ہیں۔ عبدالقادر کے بیٹے سلمان قادر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے جیت کے جذبے سے کھیلتے تھے،ملک کی محبت ان کے دل میں سمائی ہوئی تھی،انہوں نے اپنے آخری انٹرویو میں بھی کہا

تھا کہ وہ جہاد کے لیے تیا ر ہیں ۔



میرے خلاف تمام کاررائیوں پر سرعام معافی مانگیں اور ساتھ ہی ۔۔۔!!! ڈیل کی پیشکش پرنوازشریف کھل کر سامنے آگئے ، اپنی شرائط بتا دیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ وہ کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے اور قانونی جنگ لڑیں گے۔میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نواز شریف کو کی جانے والی پیشکش بحیثیت مجموعی ویسی ہی ہے جو انہیں تب دی گئی تھی جب وہ لندن میں تھے۔
یہی پیشکش نواز شریف کو 2018ء کے عام انتخابات سے قبل دی گئی تھی۔میڈیا رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا جواب اس وقت بھی وہی تھا اور اب بھی واضح الفاظ میں یہی ہے کہ آپ نے جو میرے ساتھ کیا ہے

اسے واپس لے لیں اور میرے خلاف کی گئی کارروائیوں پر سرعام معافی مانگیں۔۔اسی حوالہ سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس سابق وزیر اعظم نوازشریف کو پیش کر نے کے علاوہ کچھ نہیں ،مریم نواز کو اپنے والد کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا ، والد ملاقات بھی نہیں کر سکتیں ،کیا آپ اس طرح کے کسی شخص سے ڈیل کی توقع رکھ سکتے ہیں۔ ایک انٹرویومیں مسلم لیگ (ن )کے سینئر رہنما سینیٹر پرویز رشید نے کہاکہ حکمرانوں کے پاس نواز شریف کو پیشکش کرنے کے علاوہ کچھ نہیں، جب بھی کسی مقدمے میں ان کے خلاف فیصلے کا اعلان ہونے والا ہوتا ہے، ڈیل کے حوالے سے گفتگو مختلف فریقین کو پیغام دینے کیلئے جان بوجھ کر پھیلا دی جاتی ہے۔ پرویز رشید نے کہا کہ نواز شریف نے اپنے اصولوں کیلئے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چار سالوں سے ان کی تذلیل کرنے اور بدنام کرنے کا ہر قدم اٹھایا گیا ہے، ان کی صاحبزادی کو ان کی آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا، وہ ان سے نہیں مل سکتیں، کیا آپ اس طرح کے کسی شخص سے ڈیل کی توقع کرسکتے ہیں جس نے اتنا کچھ برداشت کیا اور جمہوری مقصد کیلئے جامع تکلیف برداشت کر رہے ہیں۔



فرنچائز مالکان کا ایکا پی ایس ایل سیزن 5شروع ہونے سے پہلے ہی تنازعات کا شکار، نیا پنڈورا باکس کھل گیا،شائقین کرکٹ مایوس

لاہور(آئی این پی)پاکستان سپر لیگ( پی ایس ایل) فرنچائزز نے اگلے سیزن کی بینک گارنٹی جمع کرانے سے انکار کردیا۔معاہدے کے تحت فرنچائززکوایک سال پہلے ہی اگلے ایڈیشن کی بینک گارنٹی جمع کرانا پڑتی تھی مگر پی سی بی نے گذشتہ برس اسے6ماہ کردیا تھا۔
البتہ اب چند ماہ قبل ہی بینک گارنٹی کیلیے خطوط ارسال کرنا شروع کر دیے گئے۔گزشتہ دنوں لاہور میں چیئرمین بورڈ احسان مانی سے ملاقات کے موقع پرفرنچائززکا کہنا تھا کہ اب لیگ مستحکم ہو چکی لہذا بینک گارنٹی کا سلسلہ ختم کر دیا جائے،حکام اس بات سے متفق بھی نظر آئے مگر اب پیچھے ہٹ

گئے ہیں، عموما بعض فرنچائزز بورڈ کو فیس کے حوالے سے ہر سال ہی پریشان کرتی ہیں، ماضی میں چندکی بینک گارنٹی کیش بھی کرائی جا چکی، اس لیے بورڈکوئی خطرہ مول لینے کو تیار نہیں ہیں۔پی سی بی کی جانب سے مسلسل اصرار پر اب مالکان نے واضح کردیاکہ جب تک انھیں رواں برس منعقدہ ایڈیشن کے حتمی حسابات نہیں دیے جاتے وہ بینک گارنٹی جمع نہیں کرائیں گے۔واضح رہے کہ پی ایس ایل فورکا فائنل15مارچ کونیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا تھا، مگرتقریبا6ماہ گذرنے کے باوجود اکائونٹس کو حتمی شکل نہیں دی جا سکی ہے۔دوسری جانب لاہور کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ فرنچائز اور بورڈ آفیشلز پر مشتمل ورکنگ گروپس بنائے جائیں گے، ان کی تجاویز گورننگ کونسل میٹنگ میں زیرغور آئیں گی، مگر تاحال ان گروپس کی میٹنگز میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ۔